بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 شعبان 1441ھ- 31 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

’’آنیۃ‘‘ نام کا مطلب اور رکھنے کا حکم


سوال

’’آنیۃ‘‘  نام کے مطلب کیا ہے؟

جواب

’’آنیہ‘‘  (آنِیَة)  جمع ہے ’’اناء‘‘ کی بمعنیٰ برتن، اسی طرح ’’آنیۃ‘‘ کے ایک معنیٰ انتہائی گرم کے بھی آتے ہیں، ایک معنیٰ برد بار کے بھی آتے ہیں، اس آخری (برد باری) والے معنیٰ کے اعتبار سے ’’آنیۃ‘‘ نام رکھنا درست ہے، لیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام صحابیات مکرمات رضی اللہ عنہن کے ناموں میں سے کسی کے نام پر رکھا جائے۔

تاج العروس (37/ 107):
"(و) {الإناءُ، (بالكسْرِ) والمدِّ: (م) مَعْروفٌ، (ج} آنِيَةٌ) ، كرِدَاءٍ وأَرْدِيَةٍ، (وأَوانٍ) جَمْعُ الجَمْعِ كسِقاءٍ وأَسقِيَةٍ وأَساقٍ، ......( {وأَنَى الحميمُ) } أَنْياً: (انْتَهَى حَرُّهُ، فَهُوَ {آنٍ) ؛ وَمِنْه قَوْلُه تَعَالَى: {يَطُوفونَ بَيْنها وبينَ حَمِيمٍ آنٍ} ، كَمَا فِي الصِّحاح. وقيلَ: أَنَى الماءُ: سَخُنَ وبلغَ فِي الحرَارَةِ؛ وقوْلُه تَعَالَى: {تُسْقَى مِن عينٍ} آنِيَةٍ} ، أَي مُتناهِيَةٍ فِي شدَّة الحرِّ؛ وكذلِكَ سائِرُ الجواهِر (وبَلَغَ هَذَا) الشَّيءُ ( {أَناهُ) ، بالفتْحِ (ويُكْسَرُ) : أَي (غايَتَهُ، أَو نُضْجَهُ وإِدراكَهُ) وبلوغَهُ؛ وَبِه فُسِّرَ قَوْله تَعَالَى: {غَيْر ناظِرينَ إناهُ} . (} والأناةُ، كقَناةٍ: الحِلْمُ والوَقارُ، {كالأَنَى) ، كعلى؛ وأَنْشَدَ ابنُ بَرِّي: الرِّفْقُ يُمْنٌ والأَناةُ سَعادةٌ ..... (ورجُلٌ آنٍ) ، على فاعلٍ: (كثيرُ الحِلْمِ) والأناةِ".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200241

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے