بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

اعضاء وضو پر آٹا لگنے کی وجہ سے وضو کا حکم


سوال

وضو کرکے نماز پڑھنے کے بعد پتہ چلا کہ ہاتھ پر آٹا گوندھنے کی وجہ سے کچھ آٹا  رہ گیا،تو نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگرکسی کےناخن یا دیگراعضاء پر آٹالگ کرسوکھ گیاہواورپانی پہنچنےکےلیےمانع بنا،توایسی صورت میں وضوصحیح نہیں ہوگا،اس کےبعد جب یادآئےاورآٹالگادیکھاتوآٹاکوہٹاکراس جگہ پانی ڈال لیاجائےاوراس سے پہلےآٹالگےرہنےکی صورت میں جو نماز پڑھی گئی ہو اس کا اعادہ لازم ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"في فتاوى ما وراء النهر: إن بقي من موضع الوضوء قدر رأس إبرة أو لزق بأصل ظفره طين يابس أو رطب لم يجز وإن تلطخ يده بخمير أو حناء جاز.

وسئل الدبوسي عمن عجن فأصاب يده عجين فيبس وتوضأ، قال: يجزيه إذا كان قليلًا، كذا في الزاهدي. وما تحت الأظافير من أعضاء الوضوء حتى لو كان فيه عجين يجب إيصال الماء إلى ما تحته، كذا في الخلاصة وأكثر المعتبرات."

(كتاب الطهارة، الباب الاول في الوضوء، الفصل الاول في فرائض الوضوء، 4/1، ط: رشیدیة)

البحر الرائق میں ہے:

"وإذا كان في أظفاره درن أو طين أو عجين أو المرأة تضع الحناء جاز في القروي والمدني، وهو صحيح وعليه الفتوى، ولو لصق بأصل ظفره طين يابس وبقي قدر رأس إبرة من موضع الغسل لم يجز."

(كتاب الطهارة،أركان الطهارة،14/1،ط:دارالكتاب الاسلامي)

بہشتی زیور میں ہے:

" اگر کسی کے ناخن میں آٹا وغیرہ لگ کر سوکھ گیا اور اس کے نیچے پانی نہیں پہنچا تو وضو نہیں ہوا، جب یاد آئے اور آٹا دیکھے تواسے چھڑاکر پانی ڈال لے اور اگر پانی پہنچانے سے پہلے کوئی نماز پڑھ لی ہو تو اس کو لوٹا ئے۔ "

(کتاب الطھارۃ،حصہ اول،ص:48،ط:توصیف پبلی کیشنز)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144404101004

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں