بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1442ھ- 26 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

آیۃ الکرسی کے نزول سے متعلق


سوال

آیۃ الکرسی کے نزول  کا کیا مقصد ہے؟

جواب

آیۃ الکرسی کے نزول سے متعلق مستقل شانِ نزول مفسرین نے ذکر نہیں کیا، البتہ یہ آیتِ کریمہ سورۂ بقرہ کی ایک طویل آیت ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کا بیان ہے، عقیدۂ توحید اور اللہ تعالیٰ کا وسیع علم، قدرت، ارادہ، سننا، جاننا وغیرہ دیگر صفات ذکر کی گئی ہیں۔ 

احادیثِ مبارکہ میں اس آیت کے بڑے فضائل بیان کیے گئے ہیں اور بعض روایات میں اسے قرآنِ کریم کی سب سے عظیم آیت قرار دیا گیا ہے، اس کی تلاوت کو ایک چوتھائی قرآن کریم کی تلاوت کے برابر فرمایاگیا ہے۔ صبح و شام اس کا پڑھنااور فرض نمازوں کے بعد اس کے پڑھنے کا اہتمام کرنا انسان کے لیے شرور سے حفاظت اورجنت میں داخلے کاسبب ہے۔ اس سلسلہ میں چند احادیثِ مبارکہ ذیل میں ذکر کی جاتی ہیں:

سنن الترمذي -(5 / 157،ط:داراحیاء التراث العربی بیروت):

 عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من قرأ حم المؤمن إلى { إليه المصير } وآية الكرسي حين يصبح حفظ بهما حتى يمسي ومن قرأهما حين يمسي حفظ بهما حتى يصبح ۔

ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے صبح کے وقت (حم الْمُؤْمِنَ إِلَی إِلَيْهِ الْمَصِيرُ وَآيَةَ) تک پڑھی اور آیة الکرسی پڑھی تو ان کی برکت سے اس کی شام تک حفاظت کی جائے گی اور جو شام کو پڑھے گا تو اس کی صبح تک حفاظت کی جائے گی۔

صحيح البخاري ـ حسب ترقيم فتح الباري - (4 / 149،ط:دارالشعب القاھرۃ):

عن أبي هريرة ، رضي الله عنه ، قال: وكلني رسول الله صلى الله عليه وسلم بحفظ زكاة رمضان فأتاني آت فجعل يحثو من الطعام فأخذته، فقلت: لأرفعنك إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر الحديث، فقال: إذا أويت إلى فراشك فاقرأ آية الكرسي لن يزال عليك من الله حافظ، ولايقربك شيطان حتى تصبح فقال النبي صلى الله عليه وسلم: صدقك وهو كذوب ذاك شيطان.

ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وسلم نے مجھے صدقہ فطر کی حفاظت کے لیے مقرر فرمایا، ایک آنے والا میرے پاس آیا اور دونوں ہاتھ بھر کے غلہ لینے لگا، میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا کہ میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وسلم کے پاس لے چلوں گا، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی (اس میں یہ بھی تھا) پھر آپﷺ نے فرمایا: جب تم اپنے بستر پر سونے کے لیے جاؤ اور آیۃ الکرسی پڑھ لو تو اللہ تعالیٰ برابر تمہاری حفاظت فرماتا رہے گا اور شیطان صبح تک تمہارے پاس بھی نہ پھٹکے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ہے تو جھوٹا، مگر اس نے یہ بات سچ کہی اور وہ شیطان تھا۔

سنن أبي داود-(1 / 545،ط:دارالکتاب العربی بیروت):

عن أبى بن كعب قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم:- « أبا المنذر أى آية معك من كتاب الله أعظم »؟  قال: قلت: الله ورسوله أعلم! قال: « أبا المنذر أى آية معك من كتاب الله أعظم »؟ قال: قلت: (الله لا إله إلا هو الحى القيوم)، قال: فضرب فى صدرى، وقال « ليهن لك يا أبا المنذر العلم ».

ترجمہ:حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :اے ابومنذر (یہ حضرت ابی بن کعب کی کنیت ہے) قرآن کی کون سی آیت سب سے زیادہ عظمت والی ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں، پھر آپ ﷺ نے استفسار فرمایا: کون سی آیت کتاب اللہ میں سب سے عظمت والی ہے؟ میں نے عرض کی (اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ) یہ سن کر آپ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا:اے ابومنذر تجھے علم مبارک ہو۔

السنن الكبرى للنسائي - (9 / 44،ط:مؤسسۃ الرسالہ بیروت):

عن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من قرأ آية الكرسي في دبر كل صلاة مكتوبة لم يمنعه من دخول الجنة إلا أن يموت.

ترجمہ: جوشخص ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھاکرے تو اس کوجنت میں داخل ہونے کے لیے بجز موت کے کوئی مانع نہیں ہے۔

فقط واللہ اعلم



فتوی نمبر : 144201201246

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں