بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

عاشورہ کا روزہ سنت ہے


سوال

عاشورہ کا روزہ فرض ہے یا سنت؟

جواب

عاشورہ (دسویں محرم) کا روزہ ابتدائے اسلام میں فرض تھا، لیکن رمضان کے روزوں کے فرض ہونے کے بعد اس کی فرضیت منسوخ ہوگئی، البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کی بعد بھی اس روزے کا اہتمام فرمایا ہے، اس لئے اس کا رکھنا مسنون ومستحب ہے، وفات سے پہلے والے سال آپ نے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ:"اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو نویں کا روزہ بھی رکھوں گا"، جبکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ :"عاشورہ کے دن روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو، اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا روزہ بھی رکھو"، اس لئے دسویں کے ساتھ نویں یا گیارہوں کا روزہ رکھنا بھی بہتر ہے، تاکہ اس عبادت کی ادائیگی میں یہود کے ساتھ مشابہت نہ رہے، واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143601200013

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے