بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

آشوب چشم کی وجہ سے وضو ٹوٹنے کے بارے میں شرعی تفصیل وتحقیق


سوال

آشوب چشم کی وجہ سے وضو کا کیا حکم ہے ؟

یہاں ہمارے علاقے میں اختلاف ہوا ہے، ایک کہتا ہے کہ آشوبِ چشم کی بیماری میں مطلقا آنسو نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، دوسرا کہتا ہے کہ اگر آنکھوں میں زخم وغیرہ سے خون یا پیپ نکلے، تو وضو ٹوٹے گا ورنہ صرف آنسو نکلنے سے وضو نہیں ٹوٹے گا، برائے مہربانی وضاحت فرمادیں۔

جواب

آشوبِ چشم کی وجہ سے آنکھ سےنکلنے والے پانی میں مندرجہ ذیل  تفصیل ہے:

1۔ اگر آنکھوں سے نکلنے والا پانی صاف ہو، متغیر نہ ہو، مثلًا اس میں سرخی یا پیپ نہ ہو اور آنکھ میں درد نہ ہو تو یہ پانی پاک ہے، اس کے نکلنے سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔

2۔  اگر آنکھوں سے نکلنے والا پانی صاف ہو، متغیر نہ ہو اور آنکھ میں درد ہو تو یہ پانی ناپاک ہے، اس کے نکلنے سے وضو  ٹوٹ جائے گا۔

3۔  اگر پانی متغیر ہو تو یہ پانی ناپاک ہوگا اور اس کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جائے گا۔

"البحر الرائق شرح كنز الدقائق" میں ہے:

"ولو كان في عينيه رمد يسيل دمعها يؤمر بالوضوء لكل وقت لاحتمال كونه صديدا وفي فتح القدير وأقول: هذا التعليل يقتضي أنه أمر استحباب فإن الشك والاحتمال في كونه ناقضا لا يوجب الحكم بالنقض إذ اليقين لا يزول بالشك نعم إذا علم من طريق غلبة الظن بإخبار الأطباء أو علامات تغلب على ظن المبتلى يجب اهـ، و هو حسن لكن صرح في السراج الوهاج بأنه صاحب عذر فكان الأمر للإيجاب."

(كتاب الطهارة، باب الحيض، ج:1، ص:227، ط: دار الكتاب الإسلامي)

"تبيين الحقائق  شرح  کنز الدقائق"  میں ہے:

"والقيح الخارج من الأذن أو الصديد إن كان بدون الوجع لا ينقض، ومع الوجع ينقض؛ لأنه دليل الجرح روي ذلك عن الحلواني اهـ.

وفيه نظر بل الظاهرإذاكانالخارجقيحا أو صديدا ينقض سواء كان مع وجع أو بدونه؛ لأنهما لا يخرجان إلا عن علة نعم هذا التفصيل حسن فيما إذا كان الخارج ماء ليس غير وفيه أيضا، ولو كان في عينيه رمد أو عمش يسيل منهما الدموع قالوا يؤمر بالوضوء لوقت كل صلاة لاحتمال أن يكون صديدا أو قيحا اهـ"

وهذا التعليل يقتضي أنه أمر استحباب، فإن الشك والاحتمال في كونه ناقضا لا يوجب الحكم بالنقض إذ اليقين لا يزول بالشك نعم إذا علم من طريق غلبة الظن بإخبار الأطباء أو بعلامات تغلب على ظن المبتلى يجب."

(كتاب الطهارة، باب الحيض، ج:1، ص:34، ط: دار الكتاب الإسلامي )

"حاشية ابن عابدين  رد المحتار عليدر المختار" میں ہے:

"(قوله: وصديد) في المغرب: صديد الجرح ماؤه الرقيق المختلط بالدم (قوله: وعين) أي وماء عين: وهو الدمع وقت الرمد. وفي بعض النسخ وغيره بدل وعين: أي غير ماء السرة كماء نفطة وجرح (قوله: لا بوجع) تقييد لعدم النقض بخروج ذلك، وعدم النقض هو ما مشى عليه الدرر والجوهرة والزيلعي معزيا للحلواني.قال في البحر: وفيه نظر، بل الظاهر إذا كان الخارج قيحا أو صديدا لنقض، سواء كان مع وجع أو بدونه لأنهما لا يخرجان إلا عن علة، نعم هذا التفصيل حسن فيما إذا كان الخارج ماء ليس غير. اهـ. وأقره في الشرنبلالية، وأيده بعبارة الفتح الجرح والنفطة وماء الثدي والسرة والأذن إذا كان لعلة سواء على الأصح اهـ فالضمير في كان للماء فقط فهو مؤيد لكلام البحر. وفيه إشارة إلى أن الوجع غير قيد بل وجود العلة كاف، وما بحثه في البحر مأخوذ من الحلية، واعترضه في النهر بقوله لم لا يجوز أن يكون القيح الخارج من الأذن عن جرح برئ، وعلامته عدم التألم فالحصر ممنوع اهـ: أي الحصر بقوله لا يخرجان إلا عن علة. وأنت خبير بأن الخروج دليل العلة ولو بلا ألم، وإنما الألم شرط للماء فقط، فإنه لا يعلم كون الماء الخارج من الأذن أو العين أو نحوها دما متغيرا إلا بالعلة والألم دليلها بخلاف نحو الدم والقيح."

(کتاب الطهارۃ، ج:1، ص:147، ط:سعید)

"درر الحكام شرح غرر الأحكام" میں ہے:

"(في عينه رمد أو عمش) بفتح الميم ضعف البصر مع سيلان الدمع في أكثر الأوقات (إن خرج منها الدمع نقض وإن استمر صار صاحب عذر) وسيأتي بيانه (كما إذا كان بها) أي بالعين (غرب) بفتح الغين المعجمة وسكون الراء عرق في العين يسقي ولا ينقطع."

[تحته في حاشية الشرنبلالي]

" قال الزيلعي: لو كان في عينيه رمد أو عمش يسيل منهما الدموع قالوا يؤمر بالوضوء عند كل صلاة لاحتمال أن يكون صديدا أو قيحا اهـ.وهذا التعليل يقتضي أنه أمر استحباب فإن الشك، والاحتمال في كونه ناقضا لا يوجب الحكم بالنقض إذ اليقين لا يزول بالشك نعم إذا علم من طريق غلبة الظن بإخبار الأطباء أو بعلامات على ظن المبتلى يجب كذا قاله صاحب البحر بعد نقله كلام الزيلعي اهـ.(قلت) لكن صرح الكمال بالوجوب بقوله: قالوا من رمدت عيناه، وسال الماء منهما وجب عليه الوضوء فإن استمر فلوقت كل صلاة اهـ.وصيغة قالوا تذكر فيما فيه الخلاف فيفهم عدم الوجوب من مقابله (قوله: كما إذا كان بهما غرب) أقول: والنقض بما سال منه لما قال الكمال.وفي التجنيس الغرب في العين إذا سال منه ماء نقض لأنه كالجرح وليس بدمع، والغرب بالتحريك ورم في المآقي."

(درر الحكام شرح غرر الأحكام لمنلا خسرو الحنفي،کتاب الطهارة، باب نواقض الوضوء ج:1، ص:16، ط: دار إحياء الكتب العربية)

فتاویٰ رشیدیہ میں ہے:

"آنکھ دکھنے کی وجہ سے اگر پانی آنکھ سے بہے

(سوال) آنکھ دکھتی ہوئی میں جوڈھیڈ آجاتا ہےتو زید کہتا ہے کہ اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے،کیوں کہ یہ خون سے بنتا ہے زید کا قول صحیح ہے یا نہیں؟

(جواب) آنکھ دکھنے میں جو پانی نکلتا ہے پاک ہے، اگر چہ بعض نے ناپاک کہہ دیا ہے، لیکن تحقیق کے خلاف ہے۔" فقط واللہ اعلم

(کتاب الطہارت، ج:1، ص:295،  ط:دار الاشاعت)

فتاویٰ دار العلوم دیوبند میں ہے:

"آنکھ سے پانی گرنانا قض وضو ہے یا نہیں ؟

(سوال (۲۲) عام کتب فقہ میں مرقوم ہے کہ آنکھ اٹھی ہو یا اس میں کوئی ضرب لگنے سے مٹی وغیرہ پڑ جانے سے یا آنکھ میں درد پیدا ہو جانے سے یعنی ہمہ  صورتوں میں جب درد پیدا ہونے سے  پانی جاوے گا(پانی نکلے گا) تو وہ نجس ہے اور ناقض وضو  ہے۔ اور حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی  قدس سرہ کا فتوی فتاوی رشید یہ حصہ دوم میں ص:27 پر عدم  ناقض وضو  مرقوم ہے،  آنکھ د کھنے میں جو پانی نکلتا ہے پاک ہے ،اگر چہ بعض نے ناپاک کہہ دیا، لیکن خلاف تحقیق ہے۔

(جواب) آنکھ د کھنے میں جو پانی  نکلتا ہے اس میں تحقیقی قول وہی ہے جو حضرت مولانا رشید احمد صاحب قدس سرہ نے ارقام فرمایا ہے، اس مسئلہ کی بحث در مختار و شامی میں   ج:1 ص:137 میں  اس طرح کی ہے کہ صاحب در مختار نے یہ لکھا ہے کہ وہ  پانی نجس اور ناقض وضو ہے عبارت اس کی یہ ہےفدمع من بعینہ رمد او عمش  ناقص الخ ۔ اس پر علامہ شامی نے امام ابن ہمام رحمتہ اللہ علیہ کی تحقیق  یہ نقل کی ہے کہ ایسی صورت میں وضوء کا امرا ستحباب  ہے وجو با نہیں ہے ، جیسا کہ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے کلام سے ظاہر ہوتا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ وہ پانی ناقض وضو نہیں  ہے۔ عبارت شامی کی یہ ہے :  قولہ ناقض الخ قال في المنية وعن محمد رحمه الله إذا كان في عينه رمد وتسيل الدموع منها آمره بالوضوء  لوقت كل صلاة لأني أخاف أن يكون ما يسيل صديدا فيكون صاحب العذر،اس عبارت سے معلوم ہوا کہ امام ابن ہمام رحمہ اللہ کی تحقیق یہ ہے کہ وہ ناقض وضو نہیں اور یہ موافق قواعد شرعیہ کے ہے ہیں، یہی  راجح ہے۔ فقط ۔"

(کتاب الطہارت،ج:1، ص:110،  ط:دار الاشاعت)

وفیہ ایضاً:

"آنکھ کے پانی کا حکم

(سوال ۵۷) بہشتی زیور حصہ اول نو اقض وضو  کے ذیل میں لکھا ہے کہ اگر آ نکھیں اٹھی ہوں اور کھنکتی ہوں تو پانی بہنے اور آنسو نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، اور اگر آ نکھیں نہ آئی ہوں ، اس میں کچھ کھٹک ہو تو آ نسو نکلنے سے وضو نہیں ٹوٹتا، آگے چل کر بطور قاعدہ کلیہ درج ہے کہ جس چیز کے لگنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے وہ چیز نجس ہوتی ہے، ایسی صورت میں جب بچوں کی آنکھیں دکھتی ہیں اور ان کی آنکھوں کا پانی اکثر ماں وغیرہ کے کپڑوں کو تر کر دیتا ہے، کیا اس کپڑے سے بغیرھوائے نماز جائز ہے یا نہیں؟

(جواب) اس مسئلہ میں ایک یہ ہے جو بہشتی زیور میں منقول ہے اور قاعدہ مذکورہ بھی صحیح ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ آنکھیں دکھنے والے کی آنکھ سے جو پانی نکلے وہ ناقض وضو نہیں ہے،  اور اس صورت میں وہ نجس بھی نہ ہوگا، حسب قاعدہ مذکورہ شامی میں مزید سے منقول ہے وعن محمد رحمة الله عليه إذا كان في عينيه رمدا و تسيل الدموع منها آمره بالوصو لوقت كل صلوة لأني أخاف أن يكون ما يسيل منها صديدا فيكون صاحب العذر قال في الفتح وهذا التعليل يقتضى أنه أمر استحباب فإن الشك و الاحتمال لا يوجب الحكم بالنقض إذ اليقين لا يزول بالشك الخ  شامی،  پس اس تحقیق کی بناء پر وہ  پانی جو دھکتی  آنکھ سے نکلے جب تک متغیر نہ ہو مثلا اس میں سرخی و غیرہ  نہ ہو بلکہ صاف پانی ہوتو وہ ناقض وضو نہ ہوگا اور نجس بھی نہ ہوگا۔ فقط۔"

(کتاب الطہارت، ج:1، ص:117، ، ط:دار الاشاعت)

کفایت المفتی میں ہے:

"ناک اور آنکھ سے آنے والے پانی کا حکم

(سوال) زکام کے وقت میں جو پانی ناک سے جاری ہوتا ہے ابتداء سفید ہو تا ہے بعد میں زرد اور بدبو دار ہو جاتا ہے یا آنکھوں میں درد ہونے کی صورت میں آنسو آتے ہیں یہ ناقض وضو ہیں یا نہیں ؟

(جواب ٣٢٤) ناک سے آنے والا پانی جب تک متغیر اللون والر یح  نہ ہو،  اسی طرح آنکھ سے آنے والے آنسو جب تک پانی کی طرح صاف ہوں نواقض وضو میں نہیں ہیں ۔"

(کتاب الطہارت، ج:2، ص:315 ،  ط:دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144503100285

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں