بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

آپ ﷺ کے بالوں کے باندھنے کاحکم


سوال

١ ۔  مردوں کے اگر بال لمبے ہوں تو کیا وہ اپنے بال باندھ سکتے ہیں؟اور اگرمرد اپنے بال باندھ سکتے ہیں تو کس انداز میں باندھ سکتے ہیں؟ حضور ﷺ کے بالوں کے باندھنے کے بارے میں جو مندرجہ ذیل روایت ہے۔حضور ﷺ کابال باندھنے یا نہ باندھنے کے بارے میں کیا معمول تھا؟ نیز حضور ﷺ بال کس انداز میں باندھتے تھے؟قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى مَكَّةَ وَلَهُ أَرْبَعُ غَدَائِرَ تَعْنِي عَقَائِصَ (سنن ابوداؤد 4191)صحابہؓ کے اپنے لمبے بالوں کے باندھنے یا نہ باندھنے کے بارے میں کیا معمول تھا؟ ٢ ۔ الف۔ عورتوں کے لیے کیا ہر حال میں سر کے اوپر جوڑا باندھنا جائز نہیں؟یا اس بارے میں کچھ استثناء موجود ہے؟کیا صرف کفاریا فساق کے مشابہہ انداز میں جوڑا باندھنا ممنوع ہے؟یا مطلقاسر کے اوپر جوڑا باندھنا ممنوع ہے؟قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم:"‏ صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ أَرَهُمَا قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ وَنِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلاَتٌ مَائِلاَتٌ رُءُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ لاَ يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلاَ يَجِدْنَ رِيحَهَا وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ كَذَا وَكَذَا‏" (صحیح مسلم 2128) ب۔ گرمیوں میں گرمی کی وجہ سے عورتیں گھر میں اپنے بال کیچر وغیرہ لگا کر اوپر کر سکتی ہیں؟ کیا یہ جوڑا باندھنے کی وعید میں شمار ہو گا؟ 1۔ اگر انہوں نے عارضی طور پر کیچر وغیرہ سے اپنے بال گردن سے تھوڑا اوپر کر کے سر کے پچھلے حصے پر کر دیے ہوں؟ 2 ۔ اگر انہوں نے مستقل جوڑا باندھ کر اپنے بال سر کے بالکل اوپر کر دیے ہوں؟ ٣ ۔ ایک فیمیل اسکن ڈاکٹر کے گردن میں پانچ چھ سالوں سےجلد/ا سکین الرجی ہے۔جب سر کے بال گردن پر اس جگہ پر لگتے/ ٹچ ہوتے ہیں تو یہ الرجی اور زیادہ ہو جاتی ہے اور بہت تکلیف دہ ہو جاتی ہے۔یہ عورت خود اسکن ڈاکٹر ہے اسکو خود پتا ہے کہ یہ الرجی بالوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ اب کیا یہ عورت گھر میں اپنے بال کیچر وغیرہ لگا کر اوپر کر سکتی ہے کہ اسکے بال اسکے گردن پر اس مخصوص جگہ پر ٹچ نہ ہو ؟ کیا یہ جوڑا باندھنے کی وعید میں شمار ہو گا؟ 

جواب

صورت مسئولہ میں نبیﷺ نے   مردوں کو بالوں کو باندھنے  سے منع فر یا ہے  اور نبی ﷺ   خود بھی بال نہیں باندھتے  تھے   اور صحابہ کرام کا بھی یہ معمول تھا ، اس کے علاوہ جو روایت میں اربع ضفائر کے الفاظ ہیں تو  اس کا جواب حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی رحمۃاللہ  نے یہ دیا ہے کہ حضور ﷺ کی چٹیاں حقیقتا چٹیاں نہیں تھیں بلکہ عمامہ کے نیچے سے چار لٹیں نکل گئیں تھیں بلا ارادہ ، اسی کو راوی نے غدائر سے  تغیر کر دیا  ،حالاں کہ اس میں ارادے کادخل نہ تھا کہ حضور ﷺ نے قصدا چٹیا  نہ بنائی تھیں ،صاحب تحفۃ الاحوذی فرماتے ہیں  ہیں شاید  یعنی بالوں کو چار طرف تقسیم کرنا  یہ غبار اور حالت  سفر میں ہو نے کی وجہ سے ہو   ۔اسی طرح عورتوں کا سرپر بال باندھنابھی  جائز نہیں ہے  اس لیے کہ حدیث شریف میں اس کی ممانت آئی ہے ، البتہ بیماری کی وجہ سے گدی سے اوپر کر کے باند ھ سکتی ہے ۔

مشكاة المصابيح میں ہے :

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ‌صنفان ‌من ‌أهل ‌النار لم أرهما: قوم معهم سياط كأذناب البقر يضربون بها الناس ونساء كاسيات عاريات مميلات مائلات رؤوسهم كأسنمة البخت المائلة لا يدخلن الجنة ولا يجدن ريحها وإن ريحها لتوجد من مسيرة كذا وكذا ". رواه مسلم."

ترجمہ: 

"رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ دوزخیوں کے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں میں نے نہیں دیکھا (اور نہ میں دیکھوں گا ) ایک گروہ تو ان لوگوں کا ہے جن کے ہاتھوں میں گائے کی دم کی  مانند کوڑے ہوں گے جس سے وہ (لوگوں کو ناحق ) ماریں گے اور دوسرا گروہ ان عورتوں کا ہے جو بظاہر کپڑے پہنے ہوئے ہوں گی مگر حقیقت میں ننگی ہوں گی، وہ مردوں کو اپنی طرف مائل کریں گی اور خود  بھی مردوں کی طرف مائل ہوں گی، ان کے سر بختی اونٹ کے  کوہان کی طرح ہلتے  ہوں  گے، ایسی عورتیں نہ تو  جنت میں داخل ہوں گی اور  نہ جنت کی بو پائیں گی حالانکہ   جنت کی بو اتنی اتنی (یعنی مثلاً سو برس)  دوری سے آتی ہے ۔"

(کتاب القصاص،باب الدیات ،2/ 1045،المكتب الإسلامي)

تحفۃ الاحوذی میں  ہے :

"وَلَهُ أَرْبَعُ غَدَائِرَ لَعَلَّهُ فَعَلَ ذَلِكَ لِدَفْعِ الْغُبَارِ انْتَهَى قُلْتُ وَهُوَ الظَّاهِرُ لِأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي السَّفَرِ".

(ابواب اللباس ،390/5،دار الكتب العلمية)

شرح مسلم نووی میں ہے :

"وأما رؤوسهن كأسنمة البخت فمعناه يعظمن رؤوسهن بالخمر والعمائم وغيرها مما يلف على الرأس حتى تشبه أسنمة الإبل البخت هذا هو المشهور في تفسيره قال المازري ويجوز أن يكون معناه يطمحن إلى الرجال ولا يغضضن عنهم ولا ينكسن رؤوسهن واختار القاضي أن المائلات تمشطن المشطة الميلاء قال وهي ضفر الغدائر وشدها إلى فوق وجمعها في وسط الرأس فتصير كأسنمة البخت قال وهذا يدل على أن المراد بالتشبيه بأسنمة البخت إنما هو لارتفاع الغدائر فوق رؤوسهن وجمع عقائصها هناك وتكثرها بما يضفرنه حتى تميل إلى ناحية من جوانب الرأس كما يميل السنام قال بن دريد يقال ناقة ميلاء إذا كان سنامها يميل إلى أحد شقيها والله أعلم قوله صلى الله عليه وسلم".

 (191/17، ط: داراحیاء التراث العربی)

فضائل سرمدی میں ہے :

"حضور ﷺ کی چٹیاں حقیقتا چٹیاں نہ تھیں بلکہ عمامہ کے نیچے سے چار بالوں کی لٹیں نکل گئیں تھیں  بلا ارادہ ، اسی کو راوی نے  غدائر سے تغیرکر دیا  حالانکہ ا  س میں ارادے کا دخل نہ تھا تو حضور ﷺ نے قصدا چٹیاں نہ بنائی تھیں "۔

(فضائل سرمد ی از مفتی ولی حسن ٹونکی رحمہ اللہ ،باب ماجاء فی شعری رسول اللہ ﷺ ، 42، مکتبہ فاطمیہ )

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144502100265

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں