بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو القعدة 1445ھ 18 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

آپ علیہ السلام پر امت کے اعمال کا پیش ہونا


سوال

کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر امتی کااعمال نامہ  پیش کیا جاتا ہے؟

جواب

احادیثِ مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے، کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر امت کے اعمال ہرصبح شام  پیش کئےجاتے ہیں، اسی طرح تمام انبیاءکرام پر ان کی امتوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں ، لہذا جوبھی آپ علیہ السلام کے امتی ہے، ان کے اعمال  آپ علیہ السلام پر پیش کئے جاتے ہیں۔

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد لنورالدین الہیثمی میں ہے:

"باب مایحصل لأمّته ﷺ من استغفاره بعدوفاته ﷺ :

"عن عبداﷲبن مسعود… قال: وقال رسول اﷲ ﷺ :حیاتي خیرلکم تحدثون وتحدث لکم، ووفاتي خیرلکم، تعرض عليّ أعمالکم، فمارأیت من خیرحمدت اﷲعلیه، ومارأیت من شرّ استغفرت ﷲ لکم. رواه البزّار، ورجاله رجال الصحیح."

 ( مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، کتاب علامات النبوّة، مایحصل لأمّتها من استغفاره بعد وفاته،ج:9،ص:24،ط: دار الکتاب بیروت)

تفسیرمظہری میں ہے:

"فَكَيْفَ۔۔۔مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ يعنى نبى ذلك الامة يشهد عليهم بما عملوا من خير او شرّ وما أجابوه وما كذبوه وَجِئْنا بِكَ يا محمد عَلى هؤُلاءِ يعنى أمتك امة الدعوة شَهِيداً ۔يشهد النبي صلى الله عليه وسلم مكى جميع الامة من رآه ومن لم يره اخرج ابن المبارك عن سعيد بنالمسيّب قال ليس من يوم الّاوتعرض على النبي صلى الله عليه وسلم أمته غدوة وعشية فيعرفهم بسيماهم وأعمالهم فلذلك يشهد عليهم."

(سورۃ النساء،آیت نمبر:42،ج:2،ص:110،ط:مکتبۃ الرشیدیہ پاکستان)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403101007

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں