بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

آنسو اگرمنہ کے راستے سے داخل نہ ہو تو روزہ کاحکم


سوال

انسان جب روتا ہے تو  پورے منہ میں نمکینی محسوس ہوتی ہے، حالاں کہ آنسو باہر کے راستے سے اس کے منہ میں داخل نہیں ہوا ہے، بلکہ آنکھ کے اندرونی راستے سے آنسو منہ میں آجاتے ہیں، تو ایسی صورت میں رال اور تھوک جس میں آنسو کی وجہ سے نمکینی ہے،قصداً نگل جانے سے اور حلق میں اتارنےسے کیا روزہ ٹوٹ جاۓگا؟

جواب

آنسو باہر سے  منہ میں آئے بغیر  اگر اندرونی راستے سے منہ میں آئے پھر لعاب کے ساتھ حلق میں اترجائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا ،اور اگرباہر سے  منہ داخل ہو پھر  حلق میں اترے تو ایک دو قطروں سے روزہ فاسد نہ ہوگا ،ہاں اگر  زیادہ آنسو منہ میں جمع ہوجائے جس کی نمکینی اثرات منہ میں  محسوس ہوں  تو اس کے نگلنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

لدموع إذا دخلت فم الصائمإن كان قليلا كالقطرة والقطرتين أونحوها لا يفسد صومه وإن كان كثيرا حتى وجد ملوحته في جميع فمه ، واجتمع شيء كثير فابتلعه يفسد صومه، و كذا عرق الوجه إذا دخل فم الصائم كذا في الخلاصة."

‌‌(كتاب الصوم،‌‌ الباب الرابع فيما يفسد وما لا يفسد، النوع الأول ما يوجب القضاء دون الكفارة، ج:1، ص:202، ط :دار الفكر بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الإمداد عن خط المقدسي أن القطرة لقلتها لا يجد طعمها في الحلق لتلاشيها قبل الوصول ، ويشهد لذلك مافي الواقعات للصدر الشهيد : إذا دخل الدمع في فم الصائم إن كان قليلا نحو القطرة أو القطرتين لايفسد صومه لأن التحرز عنه غير ممكن،و إن كان كثيرا حتى وجد ملوحته في جميع فمه وابتلعه فسد صومه، و كذا الجواب في عرق الوجه اه. ملخصا."

(‌‌كتاب الصوم،‌‌ باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، ج:2، ص:404، ط:دار الفكر - بيروت)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144509102056

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں