بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

آن لائن پیسے کمانا


سوال

آن لائن کمانے کا کیا حکم ہے؟

جواب

آن لائن پیسے کمانے کی مختلف صورتیں رائج ہیں،جن  میں سے بعض جائزاور بعض ناجائز ہوتی ہے ،لیکن بنیادی طور پر  یہ بات ملحوظ رکھیں کہ آن لائن  کے  ہر وہ کام جو شرعی اصولوں کے مطابق ہویعنی جس میں شرعاً کوئی خرابی نہ ہو ایسا کام  کرناجائز ہےاورآن لائن کےہر وہ کام  جس میں شرعی مفاسد پائے جاتے ہو مثلا، ایڈزدیکھ کر پیسے کمانا،آن لائن اشتہارات کے ذریعے پیسے ،ایڈپر کلک کرکے پیسے کمانا   ،ایسے آن لائن کام کرنا شرعا ناجائز ہے ،سائل کو جس کاروبار کے متعلق حکم شرعی معلوم کرنا ہو،اسکی پوری تفصیل  بیان کرکے حکم شرعی معلوم کرسکتے ہیں۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن رافع بن خديج قال: قيل: يا رسول الله أي الكسب أطيب؟ قال: «‌عمل ‌الرجل ‌بيده وكل بيع مبرور» ."

(‌‌كتاب البيوع، باب الكسب وطلب الحلال، الفصل الثالث، ج:2، ص:847، ط:المكتب الإسلامي)

فتاوی شامی میں ہے:

"هي لغة: اسم للأجرة وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به، يقال أعظم الله أجرك. وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين بزازية."

(کتاب الإجارۃ، ج:9، ص:5، ط:رشیدیۃ)

الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیہ میں ہے :

"الإجارة على المنافع المحرمة كالزنى والنوح والغناء والملاهي محرمة، وعقدها باطل لا يستحق به أجرة . ولايجوز استئجار كاتب ليكتب له غناءً ونوحاً؛ لأنه انتفاع بمحرم ...  ولايجوز الاستئجار على حمل الخمر لمن يشربها، ولا على حمل الخنزير".

(کتاب الإجارۃ، الفصل السابع، الإجارۃ علی المعاصي والطاعات ج:1، ص:290، ط:دار السلاسل)

فقط و الله اعلم


فتوی نمبر : 144508101129

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں