بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 شعبان 1445ھ 28 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

عمامہ کی سنت مقدار


سوال

عمامه كى مقدار كتنى ہے ؟

جواب

عمامہ کی سنت مقدار سات ہاتھ ہے اور بعض اوقات بارہ ہاتھ عمامہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔

جمع الوسائل فی شرح الشمائل میں ہے:

"كان له صلي الله عليه وسلم عمامة قصيرة وعمامة طويلة، وإن القصيرة كانت سبعة أذرع والطويلة كانت إثني عشرةذراعا ، إنتهى، وظاهر كلام المدخل أن عمامته كانت سبعة أذرع مطلقا من غير تقييد بالقصير والطويل، والله أعلم."

(باب ماجاء في عمامة رسول الله صلي الله عليه وسلم، ج:1، ص:207، ط:إدارة تاليفات اشرفيه ملتان)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"سوال:نماز کے وقت اکثر پیش امام ٹوپی پر کوئی کپڑا یا رومال لپیٹ لیا کرتے ہیں اور ایسا نہ کرنے والے کے ساتھ طعن و تشنیع سے پیش آتے ہیں اور کہتے  ہیں کہ نماز میں پیش امام کو عمامہ باندھنا چاہیے، یہ فعل ان کا کیسا ہے؟ اگر ٹوپی پر لپٹے تو کتنا لمبا ہونا چاہیے، کیا اس کے لیے کوئی قید ہے؟ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر مقتدی نصف سے زائد جماعت میں ہوں جو عمامہ باندھے ہوئے ہوں اور پیش امام ٹوپی پہنا ہو تو نماز کروہ ہوتی ہے۔

الجوب حامدا و مصلیا: نماز بغیر عمامہ کے بلا کراہت درست ہے، تو پھر طعن وتشنیع کرنا بُرا ہے بلکہ اگر فعلِ مستحب کے ساتھ وجوب کا معاملہ کیا جائے تو اس کا ترک کرنا ضروری ہوتاہے، اور اگر تمام مقتدی بھی عمامہ باندھے ہوئے ہوں اور امام ٹوپی پہنے ہوئے ہو تب بھی نماز میں کراہت نہیں آتی، اور اگر ٹوپی پر رومال وغیرہ باندھنے سے عمامہ حاصل نہ ہوگی جب تک سنت کے موافق نہ ہو، اس کی مقدار سات ہاتھ ہے اور بعض اوقات بارہ  ہاتھ عمامہ بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔"

(کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ، عمامہ کی مقدار، ج:6، ص:45،44، ط:ادارہ الفاروق کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144401101439

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں