بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 رجب 1444ھ 31 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

عالم نہ بننے کا حکم جب کہ والد کی خواہش عالم بنانا ہو


سوال

 میں  حافظِ  قرآن  ہوں، حافظ بننے کے بعد میں نے دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد میرے والد صاحب چاہتے تھے کہ میں دینی تعلیم حاصل کر کے ایک عالم بنوں، لیکن میری خواہش یہ تھی کہ میں دنیاوی تعلیم حاصل کروں اور سافٹ ویئر انجینئر(software engineer) بنوں، اس کے بعد میں نے کالج میں داخلہ لے لیا اور عالم نہ بن کر اپنے شوق کے مطابق دنیاوی تعلیم حاصل کرلی ، پوچھنایہ ہے کہ کیا میں عالم نہ بننے کی وجہ گناہ گار ہوا؟ راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ  دین کے  اَحکام کو تفصیل سے پڑھنا اور سیکھنا فرض کفایہ ہے، لہٰذا مروجہ طریقے مطابق باضابطہ عالم بننا اور دین کا مکمل علم حاصل کرنافرضِ کفایہ ہے، ہرمسلمان کے لیے عالم بننا لازم نہیں ہے، بلکہ بقدرِ ضرورت کچھ لوگ یہ سب علوم حاصل کرلیں،تو باقی مسلمان سبکدوش یعنی برئ الذمہ ہوجائیں گے، البتہ  دین کا اتنا علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرضِ عین ہے کہ جس سے دینِ  اسلام کے عقائدِ صحیحہ کا علم حاصل ہوجائے اور پاکی و ناپاکی کے احکام سیکھے، نماز، روزہ، زکوۃ، حج اور تمام عبادات جو شریعت نے فرض و واجب قرار دی ہیں ان کا علم حاصل کرے، جن چیزوں کو حرام یا مکروہ قرار دیا ہے ان کا علم حاصل کرے، جن لوگوں کو خرید وفروخت  کرنا پڑے یا تجارت و صنعت یا مزدوری و اجرت کے کام کرنے پڑیں اس پرخرید وفروخت اور اجارہ و مزدوری وغیرہ کے مسائل واحکام سیکھنا لازم ہے، جب نکاح کرے تو نکاح کے احکام و مسائل اور طلاق کے احکام و مسائل معلوم کرنا ضروری ہے، غرض جو کام شریعت نے ہر انسان کے ذمہ فرض و واجب کیے ہیں ان کے احکام و مسائل کا علم حاصل کرنا بھی ہر مسلمان مرد و عورت پر بقدرِ ضرورت فرض عین ہے ۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل نے اپنے شوق کے مطابق دنیوی تعلیم حاصل کی ہے اور عالم نہیں بناہے تو اس سے سائل گناہ گار نہیں ہوا ہے، بلکہ ان شاء اللہ امید ہے کہ یہ حفظِ قرآن قیامت کے دن دخولِ جنت اور اپنے خاندان کے دس ایسے لوگوں کی شفاعت کا ذریعہ بنے گا جن کے حق میں جہنم  لازم ہوچکی ہے،بشرطیکہ قرآن مجید یاد ہو اور اس کے حلال وحرام کے مطابق زندگی گزاری ہو، چنانچہ حدیث مبارکہ ہے :

"عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ‌من ‌قرأ القرآن فاستظهره فأحل حلاله وحرم حرامه أدخله الله به الجنة وشفعه في عشرة من أهل بيته كلهم قد وجبت له النار. رواه أحمد والترمذي وابن ماجه والدارمي".

(مشكاة المصابىح، کتاب الصوم، باب فضائل القرآن، ج:1، ص:189، ط:رحمانيه)

ترجمہ:"حضرت علی رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسولِ کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"جس شخص نے قرآن مجید پڑھا، پھر اسے یاد کیا اور اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام جانا تو اللہ تعالی اسے (ابتداء ہی سے) جنت میں داخل فرمائے گااور اس کے ان دس عزیزوں کے حق میں اس کی سفارش قبول فرمائےگا جو مستوجبِ دوزخ (یعنی فاسق اور مستحقِ عذاب) ہوں گے"۔

(مظاہرِ حق، ج:2، ص:398، ط:دارالاشاعت)

ایک اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی قیامت کے دن حافظِ قرآن کے والدین کے سر پر  ایسا تاج سجائیں گے کہ جس کی روشنی دنیا کے سورج کی روشنی سے زیادہ اعلیٰ ہوگی، چنانچہ مشکاۃ المصابیح میں حدیث ہے:

"وعن معاذ الجهني: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «‌من ‌قرأ القرآن وعمل بما فيه ألبس والداه تاجا يوم القيامة ضوءه أحسن من ضوء الشمس في بيوت الدنيا لو كانت فيكم فما ظنكم بالذي عمل بهذا؟» . رواه أحمد وأبو داود".

(کتاب الصوم، باب فضائل القرآن، ج:1، ص:188، ط:رحمانيه)

ترجمہ" حضرت معاذ جہنی رضی اللہ عنہ  راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"جو شخص قرآن پڑھے اور جو کچھ اس میں مذکور ہے اس پرعمل کرے تو قیامت کے دن اس کے ماں باپ کو تاج پہنایاجائے گا جس کی روشنی دنیا کے گھروں میں چمکنے والے آفتاب کی روشنی سے اعلی ہوگی، اگر (بالفرض والمحال) تمہارے گھروں میں آفتاب ہو، اب توخود اس شخص کا مرتبہ سمجھ سکتے ہو جس نے قرآن پر عمل کیا"۔

(مظاہرِ حق، ج:2، ص:397، ط:دارالاشاعت)

البتہ اگر سائل کے والد حیات ہیں تو سائل خوب ذوق و شوق سے  ان کی خدمت کرے اور ہر جائز امور (جس میں کوئی نقصان کا خدشہ نہ ہو) میں اپنی امید وآرزؤوں  پر والد کی امید وچاہتوں کو  ترجیح دے، خصوصاً جب والد کی چاہتیں  دینی جذبات پر مشتمل ہو، اور اگر سائل کے والد وفات پاچکے ہوں تو ان کے لیے کثرت سے دعائے مغفرت اور ایصالِ ثواب کرے۔

الدر المختار میں ہے:

"واعلم أن تعلم العلم يكون فرض عين وهو بقدر ‌ما ‌يحتاج ‌لدينه. وفرض كفاية، وهو ما زاد عليه لنفع غيره."

وفي الرد  تحته:

"(قوله: واعلم أن تعلم العلم إلخ) أي العلم الموصل إلى الآخرة أو الأعم منه. قال العلامي في فصوله: من فرائض الإسلام تعلمه ما يحتاج إليه العبد في إقامة دينه وإخلاص عمله لله تعالى ومعاشرة عباده. وفرض على كل مكلف ومكلفة بعد تعلمه علم الدين والهداية تعلم علم الوضوء والغسل والصلاة والصوم، وعلم الزكاة لمن له نصاب، والحج لمن وجب عليه والبيوع على التجار ليحترزوا عن الشبهات والمكروهات في سائر المعاملات. وكذا أهل الحرف، وكل من اشتغل بشيء يفرض عليه علمه وحكمه ليمتنع عن الحرام فيه اهـ..وفي تبيين المحارم: لا شك في فرضية علم الفرائض الخمس وعلم الإخلاص؛ لأن صحة العمل موقوفة عليه وعلم الحلال والحرام وعلم الرياء؛ لأن العابد محروم من ثواب عمله بالرياء، وعلم الحسد والعجب إذ هما يأكلان العمل كما تأكل النار الحطب، وعلم البيع والشراء والنكاح والطلاق لمن أراد الدخول في هذه الأشياء وعلم الألفاظ المحرمة أو المكفرة، ولعمري هذا من أهم المهمات في هذا الزمان؛ لأنك تسمع كثيرا من العوام يتكلمون بما يكفر وهم عنها غافلون، والاحتياط أن يجدد الجاهل إيمانه كل يوم ويجدد نكاح امرأته عند شاهدين في كل شهر مرة أو مرتين، إذ الخطأ وإن لم يصدر من الرجل فهو من النساء كثير....قال في تبيين المحارم: وأما فرض الكفاية من العلم، فهو كل علم لا يستغنى عنه في قوام أمور الدنيا كالطب والحساب والنحو واللغة والكلام والقراءات وأسانيد الحديث وقسمة الوصايا والمواريث والكتابة والمعاني والبديع والبيان والأصول ومعرفة الناسخ والمنسوخ والعام والخاص والنص والظاهر وكل هذه آلة لعلم التفسير والحديث، وكذا علم الآثار والأخبار والعلم بالرجال وأساميهم وأسامي الصحابة وصفاتهم، والعلم بالعدالة في الرواية، والعلم بأحوالهم لتمييز الضعيف من القوي، والعلم بأعمارهم وأصول الصناعات والفلاحة كالحياكة والسياسة والحجامة. اهـ."

(مقدمة، ج:1، ص:42 ،ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144404100643

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں