بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 رجب 1444ھ 01 فروری 2023 ء

دارالافتاء

 

عالم دین کو منافق کہنا


سوال

ایک شخص عالم دین کو برا بھلا کہے مثلا منافق وغیرہ کہے تو ایسے شخص کا کیا حکم ہے ؟ کیا اس پر تجدید ایما ن لازم ہے یا کیا حکم ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ کسی مسلمان کو گالی دینا فسق ہے ،اس سے بچنا ضروری ہے ،خاص طور پر کسی وجہ کے بغیر علماءِ کرام کو  برا بھلا کہنا یا گالی دینا اور بھی زیادہ گناہ ہے، فقہاءِ کرام رحمہم اللہ  نے ایسے شخص کے بارے میں بھی کفر کا اندیشہ ظاہر کیا ہے جو  کسی ظاہری سبب کے بغیر دل میں علماءِ کرام کا بغض رکھتا ہو اور یہ بغض رکھنا اس وجہ سے ہوکہ وہ شخص عالم ہے   اور  جو شخص کسی عالم دین  کو بغض کی بناء پر گالی دے تو  اس کے متعلق فقہاء کرام  رحمہم اللہ  فرماتے ہیں کہ وہ کافر ہوجائے گااور  ایسے شخص کا اپنی بیوی سے نکاح ختم ہوجائے گا۔

لہذا  اس عمل پر سچے دل سے توبہ و استغفار کرنا   لازم ہے،  احتیاطًا تجدید نکاح  کر لے اور آئندہ علماءِ کرام سے بدگمان ہونے سےبچے اور صالحین  کی صحبت اختیار کی جائے۔

نیز واضح رہے کہ نفاق ایک مخفی بیماری ہے، جس کے بارے میں بالیقین فیصلہ کرنے کا کسی  کو حق نہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول ہے کہ نفاق کا فیصلہ رسول اللہ ﷺ کے دور کے ساتھ خاص تھا، اب یا تو مؤمن ہے یا کافر۔ لہٰذا کسی مسلمان کو  متعینہ طور پر منافق کہنا جائز نہیں ہے۔ بدعملی بے شک گناہ ہے، دوسروں کو نیکی کی تلقین کرنا اور خود عمل نہ کرنا بھی بلاشبہ کوتاہی ہے، لیکن اس کی وجہ سے کسی کو منافق کہنے کا حق نہیں ہے۔  جیسے کسی مسلمان کو گالی دینا یا کافر کہنا حرام ہے، اسی طرح منافق کہنا بھی ناجائز ہے۔

مجمع الأنهر في شرح ملتقي الأبحر  میں ہے:

"وفي البزازية ‌فالاستخفاف بالعلماء لكونهم علماء استخفاف بالعلم والعلم صفة الله تعالى منحه فضلا على خيار عباده ليدلوا خلقه على شريعته نيابة عن رسله فاستخفافه بهذا يعلم أنه إلى من يعود فإن افتخر سلطان عادل بأنه ظل الله تعالى على خلقه يقول العلماء بلطف الله اتصفنا بصفته بنفس العلم فكيف إذا اقترن به العمل الملك عليك لولا عدلك فأين المتصف بصفته من الذين إذا عدلوا لم يعدلوا عن ظله والاستخفاف بالأشراف والعلماء كفر.ومن قال للعالم عويلم أو لعلوي عليوي قاصدا به الاستخفاف كفر.ومن أهان الشريعة أو المسائل التي لا بد منها كفر ومن بغض عالما من غير سبب ظاهر خيف عليه الكفر ولو شتم فم عالم فقيه أو علوي يكفر وتطلق امرأته ثلاثا إجماعا كما في مجموعة المؤيدي نقلا عن الحاوي".

(كتاب السير، باب المرتد، ألفاظ الكفر أنواع، ١ / ٦٩٥، ط: دار احياء التراث)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144406101800

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں