بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

آخری قعدے میں دعا کاحکم


سوال

کیا نماز کی آخری رکعت میں سلام پھیرنے سے پہلے جب ہم جماعت کے ساتھ نماز پڑھیں یا اکیلے پڑھ رہے ہوں رب اجعلنی ۔۔۔۔حساب تک پڑھنے کے بعد کوئی اور عربی دعائیں بھی پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ   میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہو یا انفرادی  دونوں صورتوں میں  کے آخری قعدے میں   قرآن وحدیث میں منقول دعائیں  اور اسی طرح وہ دعائیں  جو قرآن وحدیث سے ثابت نہ ہوں  لیکن عربی میں ہوپڑھ سکتے ہیں ، بشرطیکہ  دعا  ایسی چیز کی ہو  اللہ تبارک وتعالی کے علاوہ کسی اور سے طلب کرنا ممکن نہ ہو۔

البحرالرائق میں ہے :

"(قوله: ودعا بما يشبه ألفاظ القرآن والسنة لا كلام الناس) أي بالدعاء الموجود في القرآن، ولم يردحقيقة المشابهة ؛ إذ القرآن معجز لا يشابهه شيء، ولكن أطلقها ؛ لإرادته نفس الدعاء ، لا قراء ة القرآن، مثل: ﴿ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا ﴾ [البقرة: 286] ﴿ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبِنَا ﴾ [آل عمران: 8] ﴿ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَلِوَالِدَيَّ ﴾ [نوح: 28] ﴿ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ﴾ [البقرة: 201] إلى آخر كل من الآيات، وقوله: والسنة، يجوز نصبه عطفاً على ألفاظ أي دعا بما يشبه ألفاظ السنة، وهي الأدعية المأثورة، ومن أحسنها ما في صحيح مسلم: «اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم ومن عذاب القبر ومن فتنة المحيا والممات ومن فتنة المسيح الدجال»، ويجوز جره عطفاً على القرآن أو ما أي دعا بما يشبه ألفاظ السنة أو دعا بالسنة، وقد تقدم أن الدعاء آخرها سنة ؛ لحديث ابن مسعود: «ثم ليتخير أحدكم من الدعاء أعجبه إليه فيدعو به»".

(آداب الصلاۃ،1/ 349،دار الكتاب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144405100485

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں