بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ذو الحجة 1445ھ 13 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

دو حدیثوں کا درست مفہوم


سوال

 میں نے ایک حدیث پڑھی ہے ،جامع الترمذی  حدیث نمبر : 2003، ہمارے پیارے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میزان میں رکھی جانے والی چیزوں میں اخلاق حسنہ سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں، اور اخلاق حسنہ کا حامل اس کی بدولت روزہ دار اور نمازی کے درجےتک مل جاتا ہے، اس حدیث کے مطابق اگر کوئی شخص جس کے اخلاق اچھے ہوں اور بھی بہت سی نیکیاں کر تا ہو ،لیکن نماز روزہ نہ کر تا ہو ،تو کیا اس سے نماز اور روزے کا سوال نہیں ہو گا؟ اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ غیر مسلم کے اخلاق بھی اچھے ہوتے ہیں اور وہ انسانیت کی خدمت کے ساتھ اللہ  تعالیٰ کی دیگر مخلوق کی بھی خدمت کرتے ہیں ،مہربانی فرما کر اس حدیث کا صحیح   مفہوم بیان کریں، تاکہ میں شیطان کے وسوسہ سے بچ سکوں۔

2) مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ اللہ کا ذکر یا کوئی آیت یا درود پاک و غیر ہ زبان سے ادا کرنے یا  دل میں پڑھنے میں کیا فرق ہے؟ اور کون سا عمل زیادہ افضل ہے؟ میں نے ایک دینی پروگرام میں سنا تھا ،وہ کہہ  رہے تھے کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جو بندہ مجھے دل میں یاد کر تا ہےتو میں بھی اسے دل میں یاد کرتا ہوں ،اور جو بند ہ میر اذکر محفل میں کر تا ہے تو میں اس سے بہتر محفل یعنی فرشتوں کی محفل میں ذکر کرتا ہوں، ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالی کے اس فرمان کے  مطابق دل میں ذکر کرنے کے مقابلے فرشتوں کی محفل زیادہ افضل ہے ، مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا درو دپاک وغیرہ کا دل میں پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں ؟اور مجھے یہ بھی معلوم کرنا ہے کہ اللہ تعالی کے دل کی زیادہ فضلیت ہے یا فرشتوں کی محفل زیادہ افضل ہے؟جب کہ فرشتوں کو بنانے والا بھی اللہ تعالی ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں جو حدیث ذکر کی گئی ہے اس میں نماز اور روزے سے نفلی نماز اور روزے مراد ہیں ،لہذا حدیثِ  مبارک  کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص فرائض کے ساتھ نوافل کا اہتمام بھی کرتا ہو ،لیکن اس کے اخلاق اچھے نہ ہوں ،اور دوسری طرف ایک شخص فرائض تو مکمل ادا کرتا ہے ،نوافل کا اس قدر  اہتمام نہیں کرتا ،لیکن اس کے اخلاق بہت اچھے ہیں ، تویہ شخص اپنے اخلاق کی وجہ سے   اس نوافل پڑھنے والے شخص کے درجہ کو پہنچ جائے گا۔ غیر مسلموں کے اخلاق اور دیگر اچھے اعمال کا بدلہ ان کو دنیا ہی کے اندر شہرت اور مال ودولت کی صورت میں  مل جاتا ہے ،آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور نہ ہی ان کے  اچھے اخلاق اور  دیگر اعمال آخرت میں انہیں کوئی نفع دیں گے،کیوں کہ آخرت کی نعمتوں کے حصول کے لیے ایمان کا ہونا ضروری  ہے۔

2)   اللہ تعالی ٰ کا ذکر زبان سے کیا جائے یا دل میں کیا جائے دونوں مفید ہیں ،کوئی بھی عمل فائدہ سے خالی نہیں ہے،البتہ علماء نے ذکر سر یعنی دل میں ذکر کرنے کو زبان سے ذکر  کرنے سے  افضل قرار دیا ہے ،نیز حدیث مبارکہ  میں جو مضمون وارد ہوا ہے، کہ جو اللہ تعالیٰ کو دل میں یاد کرتا ہے ،اللہ تعالیٰ بھی اس کو دل میں یاد کرتے ہیں ،اور جو اللہ کا ذکر محفل میں کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا ذکر اس سے بہتر محفل فرشتوں کی محفل میں  فرماتے ہیں ،ان  دونوں میں سے  افضل صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ   ذکر کرنے والے کو دل میں یاد  فرماتے  ہیں ،اور اللہ تعالیٰ کا  بندے کو دل میں یاد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ اس ذکر کرنےکو  اپنی شایانِ شان بدلہ عطا فرماتے ہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"مَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اشْـتَدَّتْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ يَوْمٍ عَاصِفٍ لَا يَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰي شَيْءٍ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِيْدُ."(سورۃ ابراہیم ،آیت نمبر:18)

ترجمہ:جو لوگ اپنے پروردگار کے ساتھ کفر کرتے ہیں،ان کی حالت باعتبار عمل کے یہ ہے جیسے کچھ راکھ ہو،جس کو تیز آدھی کے دن میں تیز ی کے ساتھ ہوا  اڑا لے جائے،ان لوگوں نے جو کچھ عمل کیے تھے اس کو کوئی حصہ ان کو حاصل نہ ہوگا،یہ بھی بڑی دور دراز کی گمراہی ہے۔(بیان القرآن)

ارشاد خداوندی ہے:

"  وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۢ بِقِيْعَةٍ يَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَاۗءً  ۭ حَتّيٰٓ اِذَا جَاۗءَهٗ لَمْ يَجِدْهُ شَـيْــــًٔـا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ  ۭ وَاللّٰهُ سَرِيْعُ الْحِسَابِ ."(سورۃ النور ،آیت نمبر:39)

ترجمہ:اور جو لوگ کافر ہیں ،ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے چٹیل میدان میں چمکتا ہوا ریت کہ پیاسااس کو پانی خیال کرتا ہے،یہاں تک کہ جب اس کے پاس آیا تو اس کو کچھ بھی نہ پایااور وہاں قضا ءِ الہٰی کو پا یا ،سو اللہ تعالیٰ نے اس کا حساب اس کو برابر  سرابر چکا دیا،اور اللہ تعالیٰ دم بھر میں حساب  کردیتاہے۔(بیان القرآن)

ارشاد  ربانی ہے:

" وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَـعَلْنٰهُ هَبَاۗءً مَّنْثُوْرًا."(سورۃ الفرقان ،آیت نمبر:23)

ترجمہ:اور ہم ان کے ان کاموں کی طرف جو کہ وہ کرچکے تھے متوجہ ہوں گے،سو ان کو ایسا کر  کے رہیں گے جیسے پریشان غبار۔(بیان القرآن)

جامع الترمذی والمذہب الحنفی میں ہے:

"ومثله أن المؤمن ليدرك بحسن خلقه درجة الصائم القائم، يعني: وإن لم يقم بالليل، ولم يصم بالنهار تطوعا، ومنه أكثر ما يدخل الناس الجنۃ تقوی اللہ وحسن الخلق، وقوله: "أكمل المؤمنين إيمانا أحسنهم خلقا."

(  کتاب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی حسن الخلق،185/7،ط:مکتبہ ربانیہ کراچی)

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْیَةً."(سورۃ الاعراف،آیت نمبر:55)

ترجمہ:تم لوگ اپنے پروردگار سے دعا کیا کرو تذلل ظاہر کرکے بھی اور چپکے چپکے بھی."(بیان القرآن)

مذکورہ آیت کی تفسیر میں مفتی شفیع عثمانی ؒ فرماتےہیں :

"اگر دعا کے معنی اس جگہ ذکر وعبارت  کے لئے جا دیں تو اس میں بھی علماءسلف کی تحقیق یہی ہے کہ ذکر سر ذکر جہر سے افضل ہے، امام  احمد ابن حنبل ؒ  ابن حبان ،بیہقی وغیرہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص کی روایت سے نقل کیا ،کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،خیر الذکر  الخفى وخیر الرزق ما یکفی"  یعنی بہترین ذکر  خفی ہے،اور بہترین رزق وہ ہے جو  انسان کے لئے کافی ہوجائے  ۔"

(معارف القرآن ،578/579/3،ط :مکتبہ معارف القرآن کراچی)

شرح النووی علی مسلم میں ہے:

"قوله تعالى إن ذ كرني في نفسه ذكرته في نفسي قال المازري النفس تطلق في اللغة على معان منها الدم ومنها نفس الحيوان وهما مستحيلان في حق الله تعالى ومنها الذات والله تعالى له ذات حقيقة وهو المراد بقوله تعالى في نفسي ومنها الغيب وهو أحد الأقوال في قوله تعالى تعلم ما في نفسي ولا أعلم ما فى نفسك أي ما في غيبي فيجوز أن يكون أيضا مراد الحديث أي إذا ذكرني خاليا أثابه الله وجازاه عما عمل)."

(کتاب الذکر،باب  الحث علی ذکر اللہ ،2/17،ط:دار احیا التراث بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144310101227

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں