بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

آدھی آستین والی قمیص میں نماز، رکعت نکلنے کے اندیشہ کی وجہ سے آستین درست کیے بغیر نماز میں شامل ہونا


سوال

نماز کے دوران اگر رکعت نکلنے کا خطره ہو تو پھر بھی وضو کے بعد آستین ٹھیک کر لى جائے چاهے رکعت نکل بھی جائے یا آستین ٹھیک کیےبغیر ہی رکعت پانے کے  لیے نماز میں شامل ہوجائے؟اور یہ بھی بتا دیں کہ آدھى آستین میں نماز هو جاتى هے؟

جواب

آستین اوپر چڑھا کر نماز پڑھنا مکروہ ہے، اس لیے وضو کے لیےآستین اوپر چڑھانے کی صورت میں وضو سے فارغ ہونے کے بعد آستین درست کر کے ہی نماز میں شامل ہونا چاہیے،چاہے رکعت نکلنے کا اندیشہ ہی کیوں نہ ہو ، رکعت پانے کے  لیے آستین درست کیے بغیر نماز میں شامل نہیں ہونا  چاہیے، ورنہ نماز میں کراہت آجائے گی؛ کیوں کہ جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی حالت میں آستین چڑھانے سے صراحتاً منع فرمایا ہے۔ 

"عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ( أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ، وَ لَا أَكُفَّ ثَوْبًا وَ لَا شَعْرًا)."

(بخاري: رقم ٨١٦، مسلم: ٤٩٠)

قال الحافظ ابن حجر رحمه الله في "الفتح" : " وَالْكَفْت هُوَ الضَّمّ وَهُوَ بِمَعْنَى الْكَفّ" .

مذکورہ روایت کی وجہ سے فقہاءِ  کرام نے عام حالات میں آدھی آستین کی قمیص و شرٹ پہن کر نماز ادا کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے، نیز نماز میں سلفِ صالحین کا معمول یہی تھا کہ وہ مکمل لباس میں نماز ادا کرتے تھے جس میں پوری آستین ہوتی تھیں، اور اللہ  تعالی کے دربار میں صلحاء کا لباس پہن کر حاضر ہونا پسندیدہ ہے؛  لہذا اگر  کسی کو شرٹ پہننا مجبوری ہو تو مکمل آستین والی شرٹ زیبِ تن کی جائے، تاہم اگر کسی وقت آدھی آستین کی شرٹ پہنے ہونے کی حالت میں نماز کا وقت ہوجائے تو  چوں کہ آدھی آستین والی شرٹ، قمیص وغیرہ میں نماز ادا کرنے سے نماز کراہت کے ساتھ ادا ہوجاتی ہے اس  لیے نماز ترک کرنا جائز نہیں، اسی حالت میں نماز ادا کرلی جائے۔ اسی طرح کسی نے وضو کے بعد آستین نیچے کیے بغیر نماز شروع کرلی تو اسے چاہیے کہ نماز کے دوران عملِ قلیل کے ذریعے (یعنی زیادہ عمل کیے بغیر مختصر وقت میں) آستین نیچے کرلے۔

مراقي الفلاح شرح نور الايضاح:

"و تشمير كميه عنهما" للنهي عنه لما فيه من الجفاء المنافي للخشوع."

( كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة، فصل في المكروهات، ١/ ١٢٨)

فتاوی قاضی خان میں ہے:

"ولو صلي رافعا كميه إلي مرفقين كره" . ( فصل فيما يفسد صلاة)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 640):

"(و) كره (كفه) أي رفعه ولو لتراب كمشمر كمّ أو ذيل.

(قوله: كمشمر كمّ أو ذيل) أي كما لو دخل في الصلاة وهو مشمر كمه أو ذيله".

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212201638

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں