بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الاول 1443ھ 25 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

آدھے بازو والی شرٹ میں وضو اور نمازکا حکم


سوال

آدھے بازو  والی شرٹ یا قمیص پہن کر کیا وضو ہو جاتا ہے؟  آج کل گرمیوں میں عموماً لوگ پینٹ کے ساتھ  ٹی شرٹ یا ہاف بازو شرٹ استعمال کرتے ہیں تو اس کے ساتھ نماز کا کیا حکم ہے؟  ادا ہوجائے گی  یا نہیں؟

جواب

آدھی (ہالف) آستین والی قمیص یا شرٹ میں نماز پڑھنا مکروہ ہے، اس حالت میں نماز ادا کی تو کراہت کے ساتھ ادا ہوجائے گی۔

لہذا اگر شرٹ پہننا مجبوری ہو تو مکمل آستین والی شرٹ زیبِ تن کی جائے، تاہم اگر کسی وقت آدھی آستین کی شرٹ پہنے ہونے کی حالت میں نماز کا وقت ہوجائے اور پوری  آستین والی قمیص/ شرٹ دست یاب نہ ہو تو، نماز ترک کرنا جائز نہیں، اسی حالت میں نماز ادا کرلی جائے، لیکن اس کا معمول نہ بنایا جائے، بلکہ عمومی حالت میں بھی پوری آستین والی قمیص پہننے کا معمول بنانا چاہیے۔

باقی آدھے بازو والی شرٹ پہن کر وضو کرنے سے وضو پر کوئی اثر نہیں پڑتا، وضو ہو جاتا ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 640):

"(و) كره (كفه) أي رفعه ولو لتراب كمشمر كمّ أو ذيل. (قوله: كمشمر كمّ أو ذيل) أي كما لو دخل في الصلاة وهو مشمر كمه أو ذيله".

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209200500

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں