بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ذو الحجة 1442ھ 04 اگست 2021 ء

دارالافتاء

 

عادت کے ایام مکمل ہونے کے دو دن بعد دوبارہ خون شروع ہوجائے تو نماز اور روزہ کا حکم


سوال

ایک عورت کو چار دن حیض آیا اور  عادت کے مطابق چار دن کے بعدغسل بھی کرلیا اور نماز روزہ بھی شروع کردیا، پھردو دن بعدخون شروع ہوگیا تو اب کیا کرے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر مذکورہ عورت کی  ماہواری کی عادت چار دن  تھی اور عادت کے مطابق چار دن خون آکر بند  ہوگیا اور اس نے نماز روزے شروع کردیے اور اس کے دو دن بعد دوبارہ خون شروع ہوگیا تو یہ عورت انتظار کرے، اگر  یہ خون دس دن مکمل ہونے سے پہلے بند ہوجاتا ہے   یہ مکمل حیض شمار ہوگا اور اس کو عادت کی تبدیلی شمار کیا جائےگا۔

لیکن اگر یہ خون  دس دن  سے بھی زیادہ بڑھ گیا تو  عادت کے مطابق چار دن حیض کے ہوں گے اور باقی استحاضہ کا خون شمار ہوگا، اور استحاضہ کے ایام کے نماز اور روزوں دونوں کی قضا لازم ہوگی، جب کہ حیض کے دنوں کے صرف روزوں کی قضا ہوگی۔

الفتاوى الهندية (1 / 37):

"فَإِنْ لَمْ يُجَاوِزْ الْعَشَرَةَ فَالطُّهْرُ وَالدَّمُ كِلَاهُمَا حَيْضٌ سَوَاءٌ كَانَتْ مُبْتَدَأَةً أَوْ مُعْتَادَةً وَإِنْ جَاوَزَ الْعَشَرَةَ فَفِي الْمُبْتَدَأَةِ حَيْضُهَا عَشَرَةُ أَيَّامٍ وَفِي الْمُعْتَادَةِ مَعْرُوفَتُهَا فِي الْحَيْضِ حَيْضٌ وَالطُّهْرُ طُهْرٌ. هَكَذَا فِي السِّرَاجِ الْوَهَّاجِ."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209200888

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں