بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الاول 1444ھ 28 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

عبد الرزاق کو رزاق پکارنے کا حکم


سوال

1:اگر کسی کا نام عبد الرحمن،عبدالرزاق،عبد الغفار یا عبدالسبحان  ہواور کسی نے  صرف رحمن ،رزاق، غفار یاسبحان سے پکارے تو گناہ صرف  کہنے اور سننے والے کو ہوگا یا سب لوگوں کو ملے گا؟ یعنی  جس نے بھی سناہو۔

2: ایک لسٹ بنادیں جس سے واضح ہو جائے کن ناموں کے ساتھ عبد لگانا ضروری ہے اور کن  ناموں کے ساتھ  لگانا ضروری نہیں؟

جواب

1.واضح رہے  کہ اللہ تعالی کی وہ  صفاتی  نام  جس کا استعمال کلمہ عبد کے بغیر غیراللہ کے لیے قرآن وحدیث  سے ثابت نہیں  جیسے:رحمن، سبحان، رزّاق، خالق، غفار وغیرہ، ایسے ناموں  کوکلمہ عبد کے بغيراستعمال كرنا، یا کسی کا نام اگر عبد الرزاق،عبد الخالق اور عبد الغفار وغیرہ ہو اسے عبد کے بغیر پکارنا شرعا ناجائزہے،جتنی مرتبہ  اس طرح پکارےگا اتنی ہی مرتبہ گناہ کا مرتکب ہوگا، اگر سننے والا اس طرح پکارے جانے پر راضی نہ ہو تو سننے والا گناہ گار نہ ہو گا۔ 

آپ کےمسائل اور ان کا حل میں مولانا محمد یوسف  لدھیانوی  رحمہ اللہ نےلکھاہے:

’’عبد کا لفظ ہٹاکر اللہ تعالیٰ کے ناموں کے ساتھ بندے کو پکارنا نہایت قبیح ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نام دو قسم کے ہیں:ایک قسم ان اسمائے مبارکہ کی ہے جن کا استعمال دُوسرے کے لیے ہو ہی نہیں سکتا، جیسے:اللہ، رحمن، خالق، رزّاق وغیرہ۔ ان کا غیراللہ کے لیے  استعمال کرنا قطعی حرام اور گستاخی ہے، جیسے کسی کا نام ’’عبداللہ‘‘ ہو اور’’عبد‘‘کو ہٹاکر اس شخص کو ’’اللہ صاحب‘‘کہا جائے، یا ’’عبدالرحمن‘‘کو’’رحمن صاحب‘‘ کہا جائے، یا ’’عبدالخالق‘‘ کو’’خالق صاحب‘‘ کہا جائے، یہ صریح گناہ اور حرام ہے۔‘‘

(کتاب الحظر والاباحہ، ج:۸،ص:۲۶۹، ط:مکتبہ لدھیانوی)

معارف القرآن میں ہے:

’’یہ سب ناجائز وحرام ہے اور گناہ کبیرہ ہے جتنی مرتبہ پکارا جاتاہے اتنی ہی مرتبہ گناہ کبیرہ کا ارتکاب ہوتاہے اور سننے والا بھی گناہ سے خالی نہیں رہتا۔‘‘

(معارف القرآن، ج:4، ص:133، سورہ: الاعراف، ط:مکتبہ معارف القرآن)

2.اللہ تعالی کے وہ صفاتی نام جن کے ساتھ کلمہ(عبد)لگانا ضروری ہے اور وہ نام جن کے ساتھ کلمہ(عبد)لگانا ضروری نہیں ہے اس کے بارے اصول یہ ہے کہ ہر وہ نام جو قرآن وحدیث میں دوسرے لوگوں کے لیے بھی استعمال ہوا ہو جیسے:رحیم، رشید، کریم وغیرہ، توایسے ناموں کو کلمہ (عبد) لگائے بغیر بھی استعمال کرنا درست ہے اور ہر وہ نام جو قرآن وحدیث  میں اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کے لیے استعمال نہیں ہواہو جیسے:رحمن، سبحان، رزاق وغیرہ، تو ایسے ناموں کے ساتھ استعمال کے وقت کلمہ (عبد) لگانا ضروری ہے، بصورت دیگر گناہ گار ہوگا۔

 مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’کہ اسماء حسنی میں سے بعض نام ایسے بھی ہیں جن کو خود قرآن وحدیث میں دوسرے لوگوں کے لیےبھی استعمال کیا گیا ہےاور بعض وہ ہیں جن کو سوائے اللہ تعالی کے  اور کسی کے لیے استعمال کرنا قرآن وحدیث سے ثابت نہیں، تو جن ناموں کا استعمال غیراللہ کے لیے قرآن وحدیث سے ثابت ہے وہ نام تو اوروں کے لیے بھی استعمال ہوسکتے ہیں جیسے:رشید، علی، کریم، عزیز وغیرہ اور اسما حسنی میں سے وہ نام جن کا غیر اللہ  کےلیے استعمال کرنا قرآن وحدیث  سےثابت نہیں وہ صرف اللہ تعالی کےلیے مخصوص ہیں ان کو غیر اللہ کے لیے استعمال کرنا الحاد مذکور میں داخل اور ناجائز وحرام ہے، مثلا: رحمن، سبحان، رزاق، خالق، غفار، قدوس وغیرہ۔‘‘

(سورۃ الاعراف،ج:۴، ص:۱۳۲، ط: مکتبہ معارف القرآن)

تحفۃ المودود باحکام المولود میں ہے:

"ومما يمنع تسمية الإنسان به أسماء الرب تبارك وتعالى فلا يجوز التسمية بالأحد والصمد ولا بالخالق ولا بالرازق وكذلك سائر الأسماء المختصة بالرب تبارك وتعالى ولا تجوز تسمية الملوك بالقاهر والظاهر كما لا يجوز تسميتهم بالجبار والمتكبر والأول والآخر والباطن وعلام الغيوب...وأما الأسماء التي تطلق عليه وعلى غيره كالسميع والبصير والرؤوف والرحيم فيجوز أن يخبر بمعانيها عن المخلوق ولا يجوز أن يتسمى بها على الإطلاق بحيث يطلق عليه كما يطلق على الرب تعالى."

[الباب الثامن: تسمية المولود...، الفصل الثاني: ص:125ط: مكتبة دار البيان، دمشق]

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144401100267

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں