بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

آباد مسجد کو بند کرنے کا حکم/ حافظِ قرآن شخص کو جو عالم نہ ہو امام بنانا کیسا ہے؟/ مسجد میں مسجد کے لیے چندہ کا حکم


سوال

ایک صنعتی ادارہ ہے ، جس کے تحت تقریباً41 مساجد ہیں، جن میں باقاعدہ امام ومؤذن مقرر ہیں، اور نمازی موجود ہیں، کچھ مساجد تو پلانٹ ایریا میں ہیں، اور کچھ رہائشی ایریا میں ہیں، جب کہ بیشتر رہائشی کالونی میں موجود ہیں، جہاں عوام کی بڑی تعداد آباد ہے، نیز مساجد ٗ تبلیغی اعمال اور اصلاحی بیانات سے آباد رہتی ہے۔

ادارہ کی انتظامیہ ٗ ائمہ اور مؤذنین کو تنخواہیں نہ دے سکنے کو سبب بنا کر اکثر (تقریباً32) مساجد کے ائمہ اور مؤذنین کو فارغ کررہی ہے، اور 24 مساجد کو عملاً بند کردیا گیاہے، جب کہ وہ ادارہ حکومت کے ماتحت ہونے کی وجہ سے اپنے دیگر تمام اخراجات وملازمین کی تنخواہیں حکومت سے قرض لے کر ہی پوری کررہا ہے، نیز اس کے علاوہ اپنے ذاتی وسائل سے بھی مساجد کی تمام ضروریات وہ ادارہ پوری کرسکتا ہے، لیکن مساجد کے معاملے میں انتظامیہ وسائل کی کمی کو عذر بنارہی ہے۔

اس صورتِ حال میں شرعی راہ نمائی درکا ہے:

1:کیا کسی مسجد کو بند کیاجاسکتا ہے؟باوجود یہ کہ وہاں نمازی بھی موجود ہوں۔

2:انتظامیہ کا محض مساجد کے معاملے میں وسائل کی عدمِ دستیابی کابہانہ کرنا کیسا ہے؟ جب کہ لاکھوں، کروڑوں کے دیگر اخراجات انتظامیہ ٗ افسران کی تنخواہوں اور مراعات پر خرچ کررہی ہے۔

3:بعض مساجد میں مؤذن کو جمعہ کی نماز اور دیگر پنج وقتہ نمازوں کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، حالاں کہ وہ محض حافظِ قرآن ہیں، دینی مسائل اور نماز کے جملہ مسائل سے واقف نہیں ہیں،اور نہ ہی جمعہ سے قبل اور وقتاً فوقتاً عوام کے لیے اصلاحی گفتگو فرماسکتے ہیں، انتظامیہ کا یہ اقدام شرعاً کیسا ہے؟بعض ذمہ داران اور عہدیداران انتظامیہ کے دفاع میں یہ بات کہتے ہیں کہ:’’ نماز پڑھانا تو کوئی بڑی بات نہیں ہے، نماز تو عام مسلمان بھی پڑھا سکتا ہے، لہٰذا ائمہ اور علماء کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔

قرآن وسنت کی روشنی میں بتائیں کہ یہ جملہ کس حد تک درست ہے؟ اور کیا شریعت میں امامت کے لیے کوئی معیار مقرر ہے یا نہیں؟ کیا کوئی بھی مسلمان مسجد میں باقاعدہ امام بن سکتا ہے؟

4:چند دن قبل قائمہ کمیٹی اور اس کے بعد اسٹیرنگ کمیٹی نے بھی ائمہ مساجد  کوپے رول ادا کرنے کی سفارش کی ہے اور مساجد کو بند کرنے کی سختی سے مخالفت کی ہے، اس بارے میں شریعت کیا راہ نمائی کرتی ہے؟

جواب

1:واضح رہے کہ جب کسی جگہ کو مسجد بنانے کے ارادے سے نمازوں کے لیے زبانی بھی مختص کردیاجائے، تو وہ جگہ مسجد کے لیے تا قیامت وقف ہوجاتی ہے،اور انسانوں  کی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں  داخل ہوجاتی ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں ایک دفعہ مسجد بن جانے کے بعد  اس کو بند کرنا اور نمازیوں کو مسجد آنے سے روکنا ناصرف حرام، بلکہ ظلمِ عظیم ہے، مذکورہ ادارے پر لازم ہے کہ  ان بند کی گئی مساجد کو فوراً کھول کر ان میں نمازیوں کو نماز کی اجازت دے دیں، بصورتِ دیگر اہل اسلام پر لازم ہے کہ اس ادارے سے میل جول اور تعلقات ترک کردیں، تاآں کہ وہ اپنی اس اسلام دشمن حرکت سے باز آکر توبہ کرلے۔

2:اگر ادارے کی انتظامیہ کے پاس واقعۃً مسجد اور ائمۂ مساجد اور مؤذنین کے لیے وسائل نہیں ہیں، تو ایسی صورتِ حال میں نمازیوں اور اہلِ علاقہ کو چاہیے کہ مسجد اور ائمہ ومؤذنین کی تنخواہوں کے اخراجات میں اپنی ذمہ داری سمجھ کر حسبِ استطاعت تعاون کریں، اور اس میں کوتاہی نہ کریں،نیز اس کام کے لیے ائمہ یا مسجد کی انتظامیہ کے افراد کو عوام الناس سے تعاون کی درخواست کرنے کی بھی اجازت ہے، بشرط یہ کہ کسی کو مجبور نہ کیاجائےاور نہ ہی اعلان کرتے ہوئے مسجد میں شور وشغب کیا جائے۔

3:شریعتِ مطہرہ میں نمازوں کے لیے مستقل یا عارضی طور پر امام مقرر کرنے کے چند اصول وضوابط مقرر کیے گئے ہیں، جن میں بنیادی طور  پر شرعاً امامت کا سب سے زیادہ حق دار وہ شخص ہے، جسے نماز کے مسائل کا سب سے زیادہ علم ہو، اوراس کے ساتھ، ساتھ وہ ظاہری اور اعلانیہ گناہوں میں بھی مبتلا نہ ہو۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں ذمہ داران کا مذکورہ جملہ کہ ’’نماز پڑھانا کوئی بڑی بات نہیں، نماز تو کوئی عام آدمی بھی پڑھاسکتا ہے‘‘، سراسر غلط اورامامت کےلیے مقررکردہ شرعی  اصولوں  سے ناواقفیت پر مبنی ہے(یہ ایسی بات ہے کہ علاج عام آدمی بھی کرسکتا ہے، اس کے لیے ڈاکٹر کی ضرورت نہیں)، اس لیے اولاً  تو  کسی عالمِ دین ہی  کو امام مقرر کیا جائے، تاکہ وہ نماز درست پڑھانے کے ساتھ ساتھ، لوگوں کے دیگر معاملات میں بھی دین کے صحیح رخ کی طرف ان کی راہ نمائی کرسکے، لیکن اگر ایسا شخص دستیاب نہ ہو، تو پھر جمعہ اور پنچ وقتہ نمازوں کے لیے اس شخص کوبطورِ امام منتخب کیا جائے جو نماز اور طہارت کے بنیادی مسائل سے واقف ہو، یعنی اسے کم از کم یہ معلوم ہو کہ کس چیز سے نماز فاسد ہوجاتی ہے اور کس چیز سے نہیں ہوتی، جو شخص نماز کے بنیادی اور ضروری مسائل سے بھی واقف نہ ہو، اس کو  عارضی یا مستقل طور پر امام منتخب کرنادرست نہیں ہے۔

4:مساجد بند کرنے کے خلاف آواز اٹھانا بے حد ضروری ہے،غلط کام کے خلاف جس کا جتنابس چلے، اسے وہ کام کرنا چاہیے، قائمہ کمیٹی کا یہ اقدام مستحسن ہے۔

سورۃ البقرۃ میں ہے:

"وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَا اُولٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَا اِلَّا خَآئِفِیْنَ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ."

ترجمہ:’’اور اس شخص سے زیادہ اور کون ظالم ہوگا جو خدا تعالیٰ کی مسجدوں میں ان کا ذکر ( اور عبادت) کیے جانے سے بندش کرے اور ان کے ویران (ومعطل) ہونے (کے بارے) میں کوشش کرے۔ ان لوگوں کو تو کبھی بےہیبت ہو کر ان میں قدم بھی نہ رکھنا چاہیے تھا (بلکہ جب جاتے ہیبت اور ادب سے جاتے) ان لوگوں کو دنیا میں بھی رسوائی (نصیب) ہوگی اور ان کو آخرت میں بھی سزائے عظیم ہوگی۔‘‘

(الآية: ١١٤)

تفسير القرطبي   میں ہے:

"فلا تقعدوا معهم حتى يخوضوا في حديث غيره إنكم إذا مثلهم.

(إنكم إذا مثلهم) فدل بهذا على وجوب اجتناب أصحاب المعاصي إذا ظهر منهم منكر، لأن من لم يجتنبهم فقد رضي فعلهم، والرضا بالكفر كفر، قال الله عز وجل: (إنكم إذا مثلهم). فكل من جلس في مجلس «1» معصية ولم ينكر عليهم يكون معهم في الوزر سواء، وينبغي أن ينكر عليهم إذا تكلموا بالمعصية وعملوا بها، فإن لم يقدر على النكير عليهم فينبغي أن يقوم عنهم حتى لا يكون من أهل هذه الآية."

(ص:٤١٨،ج:٥،سورۃ النساء، الآية: ١٤٠، ط: دار الكتب المصرية)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما حكم الوقف الجائز وما يتصل به: فالوقف إذا جاز على اختلاف العلماء في ذلك، فحكمه أنه يزول الموقوف عن ملك الواقف ولا يدخل في ملك الموقوف عليه، لكنه ينتفع بغلته بالتصدق عليه."

(ص:٢٢٠،ج:٦،کتاب الوقف، فصل فی حکم الوقف، ط: دار الكتب العلمية)

حاشية ابن عابدين   میں ہے:

"(والأحق بالإمامة) تقديما بل نصبا مجمع الأنهر (الأعلم بأحكام الصلاة) فقط صحة وفسادا بشرط اجتنابه للفواحش الظاهرة، وحفظه قدر فرض، وقيل واجب، وقيل سنة . . . (قوله تقديما) أي على من حضر معه (قوله بل نصبا) أي للإمام الراتب (قوله بأحكام الصلاة فقط) أي وإن كان غير متبحر في بقية العلوم، وهو أولى من المتبحر، كذا في زاد الفقير عن شرح الإرشاد (قوله بشرط اجتنابه إلخ) كذا في الدراية عن المجتبى. وعبارة الكافي وغيره: الأعلم بالسنة أولى، إلا أن يطعن عليه في دينه لأن الناس لا يرغبون في الاقتداء به."

(ص:٥٥٧،ج١:،  کتاب الصلاۃ، باب الإمامة، ط: ايج ايم سعيد)

البحر الرائق   میں ہے:

"وفي الخلاصة الأكثر على تقديم الأعلم فإن كان متبحرا في علم الصلاة لكن لم يكن له حظ في غيره من العلوم فهو أولى اهـ. وقيد في المجتبى الأعلم بأن يكون مجتنبا للفواحش الظاهرة، وإن لم يكن ورعا وقيد في السراج الوهاج تقديم الأعلم بغير الإمام الراتب، وأما الإمام الراتب فهو أحق من غيره، وإن كان غيره أفقه منه."

(ص:٣٦٨، ج:١،کتاب الصلاۃ، باب الإمامة، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فتاویٰ محمودیہ کے ایک سوال کے جواب میں ہے:

’’ مسجد کی تعمیر یا امام کی تنخواہ کے لیے چندہ کرنا مسجد میں منع نہیں، بشرط یہ کہ شور و شغب نہ ہو، جیسا کہ عامۃً آج کل ہوتا ہے کہ ایک دوسرے پر طعن کرتے ہیں، غیرت دلاتے ہیں، کم چندہ دینے پر جھگڑتے ہیں، غرض مسجد کا احترام ملحوظ نہیں رکھتے ، یہ طریقہ منع ہے۔‘‘

(ص:٢٧٥،ج:١٥،کتاب الوقف، باب آداب المساجد، ط: ادارۃ الفاروق)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508100279

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں