بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ربیع الثانی 1443ھ 29 نومبر 2021 ء

دارالافتاء

 

ڈی ایس پی فنڈ کی مد میں ہونے والی جبری اور اختیاری کٹوتی کے حکم میں فرق کی وجہ


سوال

ڈی ایس پی فنڈ پر بالجبر کٹنے والی رقم بمع منافع حلال کیسے ہے؟ اور بالرضا کٹوانے والی رقم بمع منافع مشتبہ بالربا کیسے ہے؟

جواب

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سے مختلف فنڈز کے نام پر جو کٹوتی کی جاتی ہے وہ اختیاری اور  جبری دو طرح کی کٹوتی ہے۔ 

اختیاری کٹوتی میں ملازم نہ صرف مذکورہ کٹوتی پر راضی ہوتا ہے، بلکہ وہ اس رضامندی کی وجہ سے حکومت یا متعلقہ ادارے کو مذکورہ رقم پر قبضہ کرکے اس سے سودی سرمایہ کاری کرنے کے لیے اپنا وکیل مقرر کررہا ہوتا ہے اور سودی آمدنی کا متمنی ہوتا ہے؛ تاکہ اس کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر حکومت یا متعلقہ ادارہ مقررہ شرح کے مطابق اس کو فنڈ مہیا کرے۔ 

مذکورہ صورت میں ملازم کی حیثیت موکل کی ہوتی ہے جب کہ حکومت یا متعلقہ ادارہ تنخواہ سے کاٹی گئی رقم میں سود پر سرمایہ کاری وکیل کی حیثیت سے کرتا ہے اور چوں کہ شرعًا وکیل کا فعل مؤکل کا فعل شمار ہوتا ہے اس وجہ سے ملازم بھی سودی معاملہ میں شریک ہونے سے محفوظ نہیں رہتا، اور تنخواہ  چوں کہ اب تک حقیقتًا قبضے میں نہیں آئی ہوتی، اس لیے براہِ راست سودی لین دین میں ملازم شریک نہیں ہوتا؛  لہذا ڈی ایس پی فنڈ اور جی پی فنڈ وغیرہ  کی مد میں اختیاری کٹوتی کی صورت میں جو اضافی رقم ملے گی وہ تشبہ بالربا کی وجہ سے حرام ہوگی، اس وجہ سے اضافی رقم کا لینا ملازم کے لیے جائز نہیں ہوگا۔ 

جب کہ جبری کٹوتی کی صورت میں تنخواہ سے کاٹی گئی رقم حکومت یا متعلقہ ادارے کے ذمے بدستور واجب الادا رہتی ہے اور قبضہ و اختیار  نہ ہونے کی وجہ سے یہ  مذکورہ رقم پر ملازم کی ملکیت بھی نہیں آتی، جیسا کہ  "البحر الرائق شرح كنز الدقائق" (8 / 5) میں ہے:

 قال رَحِمَهُ اللَّهُ ( وَالْأُجْرَةُ لَاتُمْلَكُ بِالْعَقْدِ بَلْ بِالتَّعْجِيلِ أو بِشَرْطِهِ أو بِالِاسْتِيفَاءِ أو بِالتَّمَكُّنِ منه ) يَعْنِي الْأُجْرَةَ لَا تُمْلَكُ بِنَفْسِ الْعَقْدِ سَوَاءٌ كانت عَيْنًا أو دَيْنًا وَإِنَّمَا تُمْلَكُ بِالتَّعْجِيلِ أو بِشَرْطِهِ أو بِاسْتِيفَاءِ الْمَعْقُودِ عليه وَهِيَ الْمَنْفَعَةُ أو بِالتَّمَكُّنِ من الِاسْتِيفَاءِ بِتَسْلِيمِ الْعَيْنِ الْمُسْتَأْجَرَةِ في الْمُدَّةِ اه ۔

نیز ملازم کی رضامندی نہ ہونے کی وجہ سے مذکورہ رقم میں کسی قسم کی سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے حکومت یا متعلقہ ادارہ اس کا وکیل نہیں بنتا اور نہ وہ اس صورت میں سودی آمدنی کا خواہش مند ہوتا ہے، لہذا جبری کٹوتی کی صورت میں اضافی رقم ملازم کے حق میں سود کی حقیقت سے خارج ہے، اس صورت میں ڈی ایس پی فنڈ و دیگر سرکاری فنڈز حکومت یا متعلقہ ادارے کی جانب سے ملازمین پر تبرع اور احسان ہوگا، جس کا وصول کرنا ملازمین کے لیے جائز ہوگا۔

البتہ جبری کٹوتی کے ساتھ اگر ملازم اپنے اختیار سے مزید کٹوتی کرواتا ہے تو پھر یہ فنڈ جبری و اختیاری دونوں قسم کی کٹوتی پر مشتمل ہوگا اور اس صورت میں اختیاری کٹوتی کی وجہ سے فنڈ کی رقم میں جس قدر اضافہ ہوگا اس میں سے اصل رقم کے علاوہ ملنے والی زائد رقم کا لینا جائز نہیں ہوگا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200897

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں