بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 رجب 1444ھ 27 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

نبی کریم صلی االلہ علیہ وسلم کے نسب نامہ میں کتنے نبی آتے ہیں؟


سوال

نبی کریم صلی االلہ علیہ وسلم کے نسب نامہ میں کتنے نبی آتے ہیں؟ 


جواب

آپ علیہ السلام  سلسلہ  کا نسب عدنان تک صحیح احادیث سے ثابت ہے،اور سب کے نزدیک مسلم ہے،لہذا عدنان تک کوئی نبی نہیں ہے،اوریہ بھی مسلم ہے کہ عدنان حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولادمیں سے ہیں،البتہ اس میں اختلاف ہے کہ عدنان سے حضرت اسماعیل علیہ السلام تک کتنی پشتیں ہیں۔

 سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کاسلسلہ نسب یہ ہے:محمدبن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف بن قصی بن کلاب بن مرۃ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہربن مالک بن النضربن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزاربن معدبن عدنان۔(بخاری شریف،باب مبعث النبي صلى الله عليه وسلم، ج: 5، ص: 44 ،رقم الحديث: 3850، ط: السلطانية بالمطبعة الكبرى)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نسب شریف کوبیان فرماتے تھے توعدنان سے تجاوزنہ فرماتے،عدنان تک پہنچ کررُک جاتے اوریہ فرماتے ''نسب والوں نے غلط کہا''یعنی ان کوسلاسلِ انساب کی تحقیق نہیں، جوکچھ کہتے ہیں وہ بے تحقیق کہتے ہیں ،اس لیے سلسلہ نسبِ محقق اورمسلم وہی ہے جواوپرذکرکردیاگیا،عدنان سے حضرت اسماعیل علیہ السلام تک اورحضرت اسماعیل علیہ السلام سے حضرت آدم علیہ السلام تک سلسلہ نسب کے ذکرمیں اختلاف ہے،اس لیے علماء عدنان تک ہی سلسلہ نسب کے بیان کرنے کومناسب قراردیتے ہیں۔

صحیح البخاری میں ہے:

"باب مبعث النبي صلی اللہ علیہ وسلم محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ھاشم بن عبد مناف بن قصي بن کلاب بن مرة بن کعب بن لؤي بن غالب بن فھر بن مالک بن النضر بن کنانة بن خزیمة بن مدرکة بن إلیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان."

(باب مبعث النبي صلى الله عليه وسلم، ج: 5، ص: 44 ،رقم الحديث: 3850، ط: السلطانية بالمطبعة الكبرى)

الطبقات الکبریٰ لابن سعد میں ہے:

"عن ابن عباس أن النبي علیہ الصلاة والسلام کان إذا انتسب لم یجاوز في نسبہ معد بن عدنان بن أدد ثم یمسک ویقول کذب النسّابون."

(الطبقات الکبری لابن سعد ج:1 ص:47، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309100258

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں