بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

وضو یا غسل کے فرائض میں سے کوئی فرض رہ جائے تو یاد آنے پر پورا وضو یا غسل کرے یا صرف اسی فرض کا اعادہ کرے؟


سوال

وضو کے یا غسل کے فرائض میں سے اگر کوئی فرض بھول جائیں اور کافی دیر کے بعد یاد آئے تو اب کیا پورا وضو / غسل دہرائیں یا پھر صرف وہی فرض دہرانا کافی ہے؟

جواب

اگر وضو یا غسل کے فرائض میں سے کوئی فرض غلطی سے چھوٹ جائے تو  یاد آنے پر صرف اسی فرض کو دہرالینا کافی ہے، پورے وضو یا غسل کو دہرانے کی ضرورت نہیں  ہے۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"لو اغتسل وبقيت على بدنه ‌لمعة لم يصبها الماء فتيمم لها ثم أحدث فتيمم له ثم وجد ما يكفيها فقط فإنه يغسلها به، ولا يبطل تيممه للحدث."

(كتاب الطهارة، باب التيمم، 1/ 256، ط: سعيد)

البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:

"إذا توضأ أو اغتسل وبقي على يده ‌لمعة فأخذ البلل منها في الوضوء أو من أي عضو كان في الغسل وغسل اللمعة يجوز."

(كتاب الطهارة،1/ 98، ط: دارالکتاب الاسلامی بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144408101807

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں