بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

سات تولہ سونے پر زکات


سوال

اگر کسی کے پاس صرف سات تولہ سونا ہو اور اس کے علاوہ کوئی نقد اور چاندی اور مال تجارت نہ ہو تو اس پر زکوۃ  واجب ہو گی ؟

جواب

اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو تو ساڑھے سات تولہ سونا، اور صرف چاندی ہو تو  ساڑھے باون تولہ چاندی،  یا دونوں میں سے کسی ایک کی مالیت کے برابر نقدی  یا سامانِ تجارت ہو ،  یا یہ سب ملا کر یا ان میں سے بعض ملا کر مجموعی مالیت چاندی کے نصاب کے برابر بنتی ہو تو ایسے  شخص پر  سال پورا ہونے پر قابلِ زکات مال کی ڈھائی فیصد زکات ادا کرنا لازم ہے۔

لہذااگر صرف سونا ہو تو سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ ہے ،لہذااگر سونے کے ساتھ نقدی،چاندی اور مال تجارت وغیرہ کچھ بھی نہیں ہےتو صرف سات تولے سونا پر زکات لازم نہیں ہے، لیکن اگر سونے کے ساتھ ساتھ کچھ اور مالیت بھی ہےتوپھرزکات کی فرضیت کا مدار ساڑھے باون تولہ چاندی پرہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وفي كل عشرين مثقال ذهب نصف مثقال مضروبا كان أو لم يكن مصوغا أو غير مصوغ حليا كان للرجال أو للنساء تبرا كان أو سبيكة كذا في الخلاصة."

(کتاب الزکاۃ،ج1،ص178،ط؛دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144410100201

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں