بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 شوال 1441ھ- 03 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

تین طلاق کے بعد دوبارہ نکاح کیسے ممکن ہے؟


سوال

میری چچا زاد بہن نے سن 2007ء میں خاندان سے باہر اپنی پسند کی شادی کی، نکاح میں کوئی بھی کوئی شرط نہیں رکھی گئی، نا ہی شوہر کو کسی چیز کا پابند کیا گیا،  نکاح کے بعد ایک عدد مہران گاڑی، اور ایک عدد پلاٹ جس کی قیمت تقریباً اسی ہزار تھی یہ دونوں تحائف واپس لیے گئے، اور ایک عدد سونے کی چین دی تھی، اور جلد ہی 2007 سے 2010ء کے درمیان ہمارے بہنوئی نے مختلف وقتوں میں مختلف جگہوں پر مختلف لوگوں کے سامنے تین طلاقیں دے دیں، اور 2012ء 2013 کے درمیان پھر اکٹھی تین طلاقیں دے کر اسلام آباد چلے گئے،  اب ان کے بچے بھی ہیں،  جن کی پرورش وتربیت کے  لیے میرے بہنوئی نے کسی عورت کو رکھنے کا ارادہ کیا، اور چھے مہینے بعد بہنوئی نے اپنے ہم نام شخص کو  لاکر  اس سے چار لوگوں کے سامنے کمرہ میں بٹھا کر نکاح کرلیا (وہ نام بھی سابقہ شوہر کے ہم نام تھا تا کہ حلفاً یہ کہا جاسکے کہ میری بہن نے فلاں کے علاوہ کسی سے شادی نہیں کی) پھر اس ہم نامی شخص سے اندر کمرے میں جانے کا کہا گیا، ان سے جسمانی تعلق ابھی قائم نہیں ہوسکا، پھر پانچ منٹ بعد کمرے سے باہر آکر ہر چند قدموں پر تین طلاقیں دے دیں،  پھر عدت گزرنے کے بعد 2017ء میں سابقہ شوہر سے دوبارہ نکاح کرنے کا کہا گیا۔ چوں کہ ہماری اس چچا زاد بہن کی نہ ماں ہی اور نہ ہی سگے بہن بھائی، اس لیے عورت نے پہلی شادی پر روزانہ کے ضروری اخراجات کے علاوہ کچھ نہیں مانگا تھا، اس صورتِ حال اور اپنی کم زوری ومجبوری کو سامنے رکھتے ہوئے دوبارہ سابقہ شوہر سے نکاح کیا، جب کہ دوسرے والے نکاح میں طلاق تک کوئی جنسی تعلق قائم نہیں ہوا تھا،  اب دونوں ساتھ ہی رہ رہے ہیں، اب بھی شک وشبہات کی بنا پر بد سلوکی وغیرہ کا وہی رویہ روا رکھا جارہا ہے، یہاں تک کہ مار پیٹ بھی کی جاتی ہے، جو اب نا قابلِ برداشت حد تک پہنچ چکی ہے، اگر شریعت گھر بسانے کی اجازت دیتی ہے تو مطلع کیا جائے، اور اگر شریعت پہلے شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت نہیں دیتی تو بھی میری چچا زاد بہن بچوں کی تربیت وپرورش کی ذمہ داری اپنے ہاتھ لینے کو بھی ہے،  ہر دو صورت میں شرعی احکام سے تحریر طور پر تفصیلاً آگاہ فرمائیں!

جواب

پہلی دفعہ ایک ساتھ تین طلاقیں دینے کی وجہ سے اسی وقت میاں بیوی کا نکاح ختم ہوگیا تھا، بیوی اپنے شوہر پر حرام ہوگئی تھی، اس کے بعد ان دونوں کا ساتھ رہنا جائز ہی نہیں تھا، جتنا عرصہ دونوں ساتھ رہے ہیں وہ سب حرام تھا، اس پر صدق دل سے توبہ و استغفار لازم  ہے، نیز شوہر نے اپنے ہم نام شخص سے نکاح کرایا، لیکن اس شخص نے ازدواجی تعلق قائم کرنےسے پہلے ہی طلاق دے دی، جس کی وجہ سے طلاق تو ہوگئی، لیکن مطلقہ اپنے پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہوئی، لہذا اب بھی ان دونوں کا ساتھ رہنا حرام ہے، فوراً علیحدگی لازم ہے۔

موجودہ حالات میں بہتر ہے کہ کسی خدا ترس انسان سے اس کا رشتہ کردیا جائے، تاکہ دونوں کی زندگی سکون سے گزرے، البتہ اگر کوئی صورت نہ بنے اور  آپ کی چچا زاد بہن اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کرنے پر برضا و رغبت آمادہ ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ دوسرے شوہر سے ہونے والی طلاق کی عدت پوری کرنے کے بعد  (سوال میں آپ نے وضاحت کی ہے کہ دوسرے شوہر کی عدت گزرنے کے بعد 2017 میں دوبارہ نکاح کیا، لہٰذا جب اس کی عدت گزرچکی ہے تو اب) وہ اپنی مرضی سے کہیں اور نکاح کرے، اور اس نکاح کرانے میں پہلا شوہر بالکل بھی شامل نہ ہو، ورنہ از روئے حدیث لعنت کا مستحق ہوگا،  نیز عقدِ نکاح میں طلاق دینے کی شرط صراحتاً مذکور نہ ہو،  تیسرے شوہر سے ازدواجی تعلقات قائم ہوجانے کے  بعد تیسرے شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ  اسے طلاق دے دے تو عورت کی  عدت (عدتِ  وفات یا عدتِ طلاق) گزار نے کے بعد پہلے شوہر کا اس سے نکاح کرنا جائز ہوجائے گا، اس کے بغیر  پہلے شوہر سے رجوع کرنا یا دوبارہ نکاح کرنا جائز نہیں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وَإِنْ كَانَ الطَّلَاقُ ثَلَاثًا فِي الْحُرَّةِ وَثِنْتَيْنِ فِي الْأَمَةِ لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ نِكَاحًا صَحِيحًا وَيَدْخُلَ بِهَا ثُمَّ يُطَلِّقَهَا أَوْ يَمُوتَ عَنْهَا، كَذَا فِي الْهِدَايَةِ". (کتاب الطلاق،الباب السادس،فصل فی ما تحل بہ المطلقۃ:1/473،ط:رشیدیہ)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200968

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے