بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1444ھ 04 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں زنا اور مشت زنی کرنے سے حکم میں فرق کی وجہ


سوال

 جماع سے رمضان کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے، قضا بھی ہے کفارہ بھی ہے،  لیکن مشت زنی سے قضا  ہے،  کفارہ نہیں، حال آں کہ  رمضان کی حرمت تو دونوں جگہ پامال ہوئی ہے ، فرق کیا ہے ان دونوں میں؟

جواب

جماع میں جنایت کامل ہے، اور جرم کی شدت زیادہ ہے؛  کیوں کہ جماع میں شہوت کامل طریقے سے پوری ہورہی ہے،  اس وجہ سے اس کا حکم بھی سخت ہے،  جب کہ مشت زنی اگرچہ گناہ اور حرام ہے،  لیکن  اس شہوت کامل طریقے سے پوری نہیں ہوتی؛ لہٰذا  جماع کی بنسبت  یہ ہلکا جرم ہے، اس وجہ سے اس کا حکم بھی جماع کی نسبت ہلکا ہے۔

اس کی تفصیل یہ ہے کہ رمضان المبارک میں روزے کے دوران جماع کرنے سے کفارہ لازم ہونا "غیر مُدرَك بالعقل" (صرف عقل سے سمجھ میں نہ آنے والا) حکم ہے؛ لہٰذا یہ اپنے "مورد" (جس صورت کے بارے میں واقع ہوا ہے، اس ) کے ساتھ خاص رہے گا، یا جہاں  جماع کی طرح جنایت کامل ہوگی  تو  حکم متعدی ہوگا،  اور جہاں نقص  یا شبہ ہوگا، وہاں متعدی نہیں ہوگا؛ لہٰذا رمضان المبارک  کے ادا روزے کے علاوہ روزے میں کفارہ لازم نہیں ہوگا، جب کہ بطورِ غذا یا دوا کوئی چیز جان کر کھانے پینے سے رمضان المبارک کا ادا روزہ توڑ دیا جائے تو بھی کفارہ لازم ہوگا، کیوں کہ یہاں بھی جنایت کامل ہے؛ کیوں کہ روزہ کہتے ہیں:" صبح صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک عبادت کی نیت سے مُفطراتِ ثلاثہ (کھانے، پینے اور قضاءِ شہوت) سے  اجتناب کرنا۔"   اور جس طرح جماع سے شہوت کامل طریقے سے پوری ہوتی ہے، اسی طرح غذا یا دوا کے طور پر استعمال کی جانے والی چیز کو جان کر کھانا پینا بھی جماع کی طرح جنایت ہونے میں مکمل ہے، جب کہ غلطی سے کھالینا، یا بوجہ مرض کھانا پینا وغیرہ میں جنایت ناقص ہے، لہٰذا کفارہ لازم نہیں ہوگا۔

دوسری بات یہ ہے کہ "کفارہ" اور "حدود" کے حوالے سے حدیث شریف میں یہ ہدایت ہے کہ جہاں  معتبر شبہ پیدا ہوجائے وہاں حدود اور کفارات لازم نہیں ہوں گے، لہٰذا رمضان المبارک کے اس ادا روزے کو جان کر توڑنے کی صورت میں کفارہ لازم ہوگا، جس روزے کی نیت صبح صادق سے پہلے کی گئی ہو، جس روزے کی نیت  صبح صادق کے بعد اور نصف النہار شرعی سے پہلے کی گئی ہو اس روزے میں (رمضان المبارک میں) جماع کرلیا تو بھی کفارہ لازم نہیں ہوگا، گو  اس کا مرتکب گناہ گار ہوگا؛ کیوں کہ  امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک صبح صادق سے پہلے رمضان المبارک کے روزے کی نیت کرنا ضروری ہے ، اور مذکورہ مسئلے میں امام موصوف رحمہ اللہ کے ہاں روزہ ہی درست نہیں ہوگا؛ لہٰذا کفارہ کے ثبوت میں شبہ پیدا ہوگیا،اس لیے کفارہ لازم نہیں ہوگا۔ 

خلاصہ یہ ہے کہ مشت زنی سے روزہ تو ٹوٹ جائے گا، جیساکہ غلطی سے کھانے پینے سے  یا کنکر وغیرہ کھانے سے روزہ ٹوٹ جائے گا، لیکن  جماع کی نسبت اس میں جنایت کامل نہیں ہے، نیز کفارے کے ثبوت میں شبہ پیدا ہوگیا تو کفارہ لازم نہیں ہوگا، تاہم روزہ توڑنے اور مشت زنی کا گناہ ہوگا؛ لہٰذا توبہ و استغفار کرنا اور روزے کی قضا کرنا لازم ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109200113

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں