بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

75سالہ عورت کے لیے عدت کا کیا حکم ہے؟


سوال

75سالہ عورت کے لیے عدت کا کیا   حکم ہے؟

جواب

واضح رہےکہ  ہر وہ عورت جسے ہمبستری یا خلوت صحیحہ  کے بعد طلاق ہوگئی ہو، یا زوجین کا باہمی رضامندی سے  خلع ہوا ہو یا شرعی طریقہ پر نکاح فسخ کیا گیا ہو یا ہمبستری اور خلوت کی قید کے بغیر جس عورت کا شوہر انتقال کرگیا ہو، اس پر عدت گزارنا لازم ہے، البتہ شوہر کے انتقال کی صورت میں مذکورہ عورت پر   چار مہینہ دس دن عدت گزارنا لازم ہوگا،اورطلاق یا خلع وغیرہ کی وجہ سے نکاح ختم  ہونے کی صورت میں  مذکورہ عورت پرتین مہینے  عدت گزارنا لازم ہوگا، اور یہی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جس کو بجالانا ہر متعلقہ خاتون پر لازم ہے،اگرچہ عورت عمررسیدہ ہو،لہذا عورت کا عدت وفات یا عدت طلاق وغیرہ   نہ گزارنایا  عدت وفات یا عدت طلاق وغیرہ  میں بلاضرورت عدت کےاحکام کی رعایت نہ کرنا اور ان کی خلاف ورزی کرنا ناجائز وحرام ہے، ایسی عورت سخت گناہ گار ہوتی ہے،لہذاصورتِ مسئولہ میں75سالہ عورت پربھی شوہرکےوفات پانے کی وجہ سےیاطلاق  خلع وغیرہ  سےنکاح ختم ہونےکی وجہ سےعدت گزارنالازم ہوگا۔

 البحر الرائق شرح کنز الدقائق  میں ہے:

"وجب في الموت إظهارا للتأسف علی فوات نعمة النکاح؛ فوجب علی المبتوتة إلحاقا لها بالمتوفی عنها زوجها بالأولی؛ لأن الموت أقطع من الإبانة ... دخل في ترك الزینة الامتشاط بمشط أسنانه ضیقة لا الواسعة، کما في المبسوط، و شمل لبس الحریر بجمیع أنواعه و ألوانه ولو أسود، وجمیع أنواع الحلي من ذهب وفضة وجواهر، زاد في التاتارخانیة القصب".

(کتاب الطلاق، فصل في الإحداد، ج: 4، ص: 253، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"والعدة لمن لم تحض لصغر أو كبر أو بلغت بالسن ولم تحض ثلاثة أشهر كذا في النقاية.....إذا وجبت العدة بالشهور في الطلاق والوفاة فإن اتفق ذلك في غرة الشهر اعتبرت الشهور بالأهلة، وإن نقص العدد عن ثلاثين يوما، وإن اتفق ذلك في خلاله فعند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وإحدى الروايتين عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - يعتبر في ذلك عدد الأيام تسعون يوما في الطلاق."

(کتاب الطلاق ، باب العدة،ج :1 ، ص: 526، ط:  دار الفکر)

فتاوی شامی ميں هے:

"(و) الإياس (سنة) للرومية وغيرها (خمس وخمسون) عند الجمهور وعليه الفتوى."

(کتاب الطلاق، باب العدة،  ج : 3، ص:515 ،ط: سعید)

البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:

"وفي الشريعة ما ذكره بقوله (هي تربص يلزم المرأة عند زوال النكاح أو شبهته) أي: لزوم انتظار انقضاء مدة والتربص التثبت والانتظار قال الله تعالى {فتربصوا به حتى حين} [المؤمنون: 25] وقال تعالى {ويتربص بكم الدوائر} [التوبة: 98] وقال تعالى {فتربصوا إنا معكم متربصون} [التوبة: 52] كذا في البدائع وإنما قدرنا اللزوم؛ لأن التربص فعلها وقد قالوا إن ركنها حرمات أي: لزومات كحرمة تزوجها على الغير".

(کتاب الطلاق، باب العدّۃ، ج:4، ص:138، ط: دارالکتاب الاسلامي)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144507101755

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں