بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 شعبان 1445ھ 01 مارچ 2024 ء

دارالافتاء

 

70/30 کے تناسب سے سرمایہ کاری ہو، نفع و نقصان آدھا آدھا ہو تو شرکت کا حکم


سوال

میں ایمزون (amazon) پر اپنا پروڈکٹ اور برانڈ لانچ کرنا چاہتا ہوں - جس کے لئے انویسٹمنٹ یعنی کہ پیسوں کی ضرورت ہے - انویسٹمنٹ آپ دو طریقے سے کر سکتے ہیں- یا تو آپ خود پوری انویسٹمنٹ کرلیں یا اگر آپ یہ نہیں کر سکتے تو آپ دوسرے انویسٹر کے ساتھ (70/30) کی بیس پر پارٹنرشپ کر لیں- یعنی کہ %70 پیسے انویسٹر لگائے گا اور %30 میں لگاوں گا۔  اور جو انویسٹر ہوگا اُسے کوئی کام نہیں كرنا،  وہ بس اپنے پیسے انویسٹ کرے گا اور اپنا منافع لے گا اور جو منافع ہمیں ملے گا اسے برابر تقسیم کیا جائے گا(50/50) ۔ بزنس کی تمام چیزوں کو میں دیکھوں گا ، یعنی کہ کاروبار میں جتنے بھی مسئلے مسائل آئیں گے ، اسے مُجھے حل کرنا ہے۔  اسی طرح اللّٰہ نہ کریں  نقصان ہوجانے کی صورت میں بھی دونوں برابر کے شریک ہیں - تو کیا اس قسم کی (30/70)کی پارٹنرشپ کو کام کے بوجھ اور کاروبار کے منافع كے حصے کو مدنظر رکھتے ہوئے کرنا صحیح ہے؟

جواب

واضح ہو کہ اگر ایک شخص کسی کاروبار میں 70 فیصد انویسٹ (سرمایہ کاری) کرے اور دوسرا 30 فیصد سرمایہ کاری کرے اور آپس میں یہ معاہدہ ہو کہ عامل (کام کرنے کا ذمہ دار)  وہ ہے جس نے 30 فیصد سرمایہ کاری کی ہے تو اسے فقہی اصطلاح میں ’شرکت‘ یعنی پارٹنرشِپ کہتے ہیں۔ شرکت میں  عامل کے لیے اپنے سرمایہ سے زیادہ نفع طے کرنا جائز ہے ۔ تاہم نقصان ہونے کی صورت میں دونوں پر اپنے سرمایہ کے بقدر نقصان ہوتا ہے، سرمایہ کے تناسب کے علاوہ نقصان میں شریک ہونے کا کوئی اور تناسب طے کرنا ناجائز ہے۔

صورت مسئولہ میں اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے 70 فیصد کسی اور سے سرمایہ لے کر 30 فیصد خود سرمایہ کاری کرنا اور خود ہی عامل ہونے کا معاہدہ کرنا جائز ہے اور دونوں شریک کا آدھا آدھا نفع تقسیم کرنے کی شرط بھی جائز ہے۔ البتہ آدھا آدھا نقصان برداشت کرنے کی شرط جائز نہیں ہے۔درست طریقہ کار یہ ہے کہ   ہر شریک اپنے سرمایہ کے تناسب سے نقصان برداشت کرے۔

البحر الرائق  میں ہے:

"(قوله وتصح مع التساوي في المال دون الربح وعكسه) وهو التفاضل في المال والتساوي في الربح، وقال زفر والشافعي لا يجوز؛ لأن التفاضل فيه يؤدي إلى ربح ما لم يضمن فإن المال إذا كان نصفين والربح أثلاثا فصاحب الزيادة يستحقها بلا ضمان إذ الضمان بقدر رأس المال؛ لأن الشركة عندهما في الربح كالشركة في الأصل ولهذا يشترطان الخلط فصار ربح المال بمنزلة نماء الأعيان فيستحق بقدر الملك في الأصل ولنا قوله - عليه السلام - «الربح على ما شرطا والوضيعة على قدر المالين» ولم يفصل؛ ولأن الربح كما يستحق بالمال يستحق بالعمل كما في المضاربة."

(كتاب الشركة، شركة العنان، ج5، ص188، دار الكتاب الإسلامي)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144406101644

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں