بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1444ھ 07 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

ساتویں دن کے علاوہ عقیقہ کرنے کا حکم


سوال

کیا یہ کہنا درست  ہے  کہ عقیقہ  پیدائش  کے بعد  ساتویں  دن کریں، چودہویں  دن کریں  یا  پھر  اکیسویں دن کریں اور اگر ایسا نا کرسکیں تو  پھر بعد میں کسی بھی دن کر سکتے ہیں؟ جواب مرحمت فرمائیں!

جواب

بچے کی پیدائش پر بطورِ شکرانہ جو قربانی کی جاتی ہے اسے ’’عقیقہ‘‘ کہتے ہیں،عقیقہ کرنا مستحب ہے، عقیقہ کا مسنون وقت یہ ہے کہ پیدائش کے  ساتویں دن عقیقہ کرے، اگر ساتویں دن عقیقہ نہ کرسکے تو چودہویں (14)  دن،  ورنہ اکیسویں (۲۱)  دن کرے،  اس کے بعد عقیقہ کرنا مباح ہے،اگر کرلے تو ادا ہوجاتا ہے،  تاہم جب بھی عقیقہ کرے بہتر یہ ہے پیدائش کے دن  کے حساب سے ساتویں دن کرے۔ساتویں دن سے  آگے یا پیچھے عقیقہ کرنے کی صورت میں نفسِ عقیقہ  کی سنت ادا ہوجائے گی، البتہ مستحب  وقت  (پیدائش کے ساتویں دن)  میں  عقیقہ کرنے کا ثواب نہیں  ملے گا۔

فيض الباري شرح البخاري - (7 / 81):

"ثم إن الترمذي أجاز بها إلى يوم إحدى وعشرين. قلتُ: بل يجوز إلى أن يموت."

تنقیح الفتاوی الحامدیة (2/ 233)  میں  ہے:

"ويسن أن يعق عن نفسه من بلغ ولم يعق عنه".

(کتاب الذبائح، مکتبة حامدیة)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144210201162

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں