بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو القعدة 1445ھ 29 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا نے سے کفارے کا حکم


سوال

میرا سوال یہ ہے کہ  جوانی  میں ایک بار رمضان کے روزوں میں  نہ چاہتے ہوئے بھی دوسرے شخص کے گمراہ کرنے پر روزے کے حالت میں زنا جیسا گناہ سرزد ہوگیاتھا،اللہ سے بہت معافی مانگی  اور صدقہ بھی دیا ہے،ابھی میری عمر چالیس سال ہوگئی ہے،اور میری صحت بھی اچھی نہیں رہتی ،طاقت کی بھی کمی ہے،کیا میں اس غلطی کی کفارے کے لیے ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا سکتا ہوں؟کیا اس سے میرا کفارہ ادا ہو جائے گا؟برائے مہربانی میری راہ نمائی فر مائیں۔

جواب

واضح رہے کہ  رمضان میں روزے کی حالت میں زنا کرنا بہت بڑا گناہ ہے،   ''زنا'' عام حالت میں بھی  انتہائی قبیح فعل  اور  بدترین گناہ ہے، حدیث مبارک میں آتا ہے کہ : "شرک کرنے کے بعد اللہ کے نزدیک کوئی گناہ اس نطفہ سے بڑا نہیں جس کو آدمی اُس شرم گاہ میں رکھتا ہے جو اس کے لیے حلال نہیں ہے،"  اور پھر  رمضان المبارک کے مہینہ  اور روزے کی حالت میں جیسے نیک اعمال کا ثواب بڑھ جاتاہے، اسی طرح گناہوں کی قباحت وشناعت بھی مزید بڑھ جاتی ہے، اور اس کبیرہ گناہ پر  سچے دل سے توبہ واستغفار کرنا لازم ہے، اور  روزہ کی قضا اور کفارہ دونوں لازم ہیں۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل   کو ساٹھ روزے رکھنے کی قدرت    کسی طرح ہوجاتی ہے تو روزہ رکھنا ضروری ہے، اور اگر واقعی قدرت نہیں رکھتا، تو ساٹھ مسکینوں کو ایک دن صبح وشام، یا ایک مسکین کو ساٹھ دن صبح وشام کھانا کھلانے سے کفارہ ادا ہوجائےگا۔

کنز العمال میں ہے:

" ‌ما ‌ذنب ‌بعد ‌الشرك أعظم عند الله من نطفة وضعها رجل في رحم لا يحل له. "ابن أبي الدنيا عن الهيثم بن مالك الطائي."

(‌‌‌‌‌‌كتاب الحدود، الباب الثاني: في انواع الحدود، الفصل الأول: في الزنا، ج:5، ص:314، ط:مؤسسة الرسالة)

سنن ابی داود میں ہے:

"عن أبي هريرة، قال: أتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل فقال: هلكت، قال: «وما أهلكك؟» قال: وقعت على امرأتي في رمضان، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «أعتق رقبة» قال: لا أجد، قال: «صم شهرين متتابعين» قال: لا أطيق، قال: «‌أطعم ‌ستين ‌مسكينا» قال: لا أجد، قال: «اجلس» فجلس، فبينما هو كذلك إذ أتي بمكتل، يدعى العرق، فقال: «اذهب، فتصدق به» قال: يا رسول الله والذي بعثك بالحق، ما بين لابتيها أهل بيت أحوج إليه منا، قال: «فانطلق فأطعمه عيالك»."

(كتاب الصيام،باب ما جاء في كفارة من أفطر يوما من رمضان، ج:1، ص: 534، ط: دار إحياء الكتب العربية)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(‌وإن ‌جامع) ‌المكلف آدميا مشتهى (في رمضان أداء) لما مر (أو جامع) أو توارت الحشفة (في أحد السبيلين) أنزل أو لا..... عمدا..... قضى..... وكفر..... ككفارة المظاهر.

(قوله: ككفارة المظاهر) مرتبط بقوله وكفر أي مثلها في الترتيب فيعتق أولا فإن لم يجد صام شهرين متتابعين فإن لم يستطع أطعم ستين مسكينا لحديث الأعرابي المعروف في الكتب الستة."

(‌‌كتاب الصوم، باب مايفسد الصوم ومالايفسد، ج:2، ص:409، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144507101262

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں