بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

پانچ مہینے کے حمل کو ساقط کرنے کا حکم


سوال

میری اہلیہ کو پانچ مہینے کا حمل ہے، بقول  ڈاکٹر حضرات کے کہ بچے کی کمر کےاندرونی حصے میں ایک قسم کا (ٹیومر) کا دانہ ہے، اب ڈاکٹر حضرات کا کہنا ہے کہ اگر حمل کو ضائع نہیں کرو گے تو ماں کو خطرہ ہے، وقتاً فوقتاً دانہ بڑھ رہا ہے، اب ہمیں کیا کرنا چاہیے، کیا ہم اس حمل کو ماں کی  جان بچانے کی خاطر ضائع کر سکتے ہیں؟ جبکہ حمل پانچ مہینے کا  ہے،ازراہِ کرم شریعت کی روشنی میں ر اہ نمائی فرمائیں ۔

جواب

واضح رہے کہ اگر حمل سے عورت کی جان کو خطرہ  ہو یا کسی شدید مضرت کا اندیشہ ہو  اور کوئی  تجربہ کار مستند مسلمان ڈاکٹر اس کی تصدیق کردے  تو ایسے اعذار کی بنا پر  حمل میں روح پڑجانے سے پہلے   پہلے (جس کی مدت تقریباً چار ماہ ہے)    اسے ساقط کرنے کی گنجائش ہوگی، اور چار ماہ کے بعد کسی صورت میں اسقاطِ حمل جائزنہیں ہے، اور  شدید عذر نہ ہو تو پھر  حمل کو ساقط کرنا   چار ماہ سے پہلے  بھی  جائز نہیں، بل کہ بڑا گناہ ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں الٹرا ساؤنڈ میں بچے کی کسی بیماری اور اس سے پیدا ہونے والے خطرہ  کا علم یقینی نہیں، بل کہ گمان کے درجے میں ہوتا ہے، اور اگر یقینی بھی ہو تو خالقِ کائنات بقیہ مدت میں اس مرض سے نجات دینے پر قدرت رکھتا ہے اور بالفرض آخر وقت تک بھی بچہ مذکورہ مرض میں مبتلا رہے، پھر بھی اس کا اسقاط جائز نہیں؛ کیوں کہ بیمار انسان کو جان سے  مارنا جائز نہیں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وكذلك المرأة يسعها أن تعالج ‌لإسقاط ‌الحبل ما لم يستبن شيء من خلقه وذلك ما لم يتم له مائة وعشرون يوما ثم إذا عزل وظهر بها حبل هل يجوز نفيه؟ قالوا إن لم يعد إلى وطئها أو عاد بعد البول ولم ينزل جاز له نفيه وإلا فلا كذا في التبيين."

(كتاب النكاح، الباب التاسع في نكاح الرقيق، فصول في خيار العتق، ج:1، ص:335، ط: رشیدیة)

و فیہ ایضاً:

"وإن أسقطت بعد ما استبان خلقه وجبت الغرة كذا في فتاوى قاضي خان.

العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقه كالشعر والظفر ونحوهما لا يجوز وإن كان غير مستبين الخلق يجوز وأما في زماننا يجوز على كل حال وعليه الفتوى كذا في جواهر الأخلاطي.

وفي اليتيمة سألت علي بن أحمد عن إسقاط الولد قبل أن يصور فقال أما في الحرة فلا يجوز قولا واحدا وأما في الأمة فقد اختلفوا فيه والصحيح هو المنع كذا في التتارخانية."

(کتاب الکراهیة، الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات وفیه العزل وإسقاط الولد، ج:5، ص:356، ط: رشیدیة)

الموسوعة الفقهية الكوتية میں ہے:

وذهب الحنفیة إلی إباحة إسقاط العلقة حیث أنهم یقولون بإباحة إسقاط الحمل ما لم یتخلق منه شيء ولم یتم التخلق إلا بعد مائة وعشرین یوماً، قال ابن عابدین: وإطلاقهم یفید عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذکورة علی إذن الزوج، وکان الفقیه علي بن موسی الحنفي یقول: إنه یکره فإن الماء بعد ما وقع في الرحم مآله الحیاة، فیکون له حکم الحیاة کما في بیضة صید الحرم، قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة علی حالة العذر أو أنها لا تأثم إثم القتل."

(‌‌‌‌علقة، الأحكام المتعلقة بالعلقة، ج:30، ص:285، ط: دارالسلاسل)

  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144507101841

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں