بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

دو مہینے پہلے ملکیت میں آنے والے پندرہ لاکھ روپے کی زکوۃ


سوال

میرے پاس دو مہینے سے نقد 15 لاکھ روپے بینک میں موجود ہے، اس پر زکوۃ   واجب ہے   کہ نہیں؟

جواب

اگر آپ پہلے سے صاحبِ نصاب ہیں تو دیگر قابل زکوٰۃ اموال کا سال پورا ہونے پر ان کی زکوٰۃ کے ساتھ  ان پندرہ لاکھ روپے کی زکوٰۃ نکالنا بھی آپ پر لازم ہوگا، (بشرطیکہ سال پورا ہونے سے پہلے یہ رقم خرچ نہ ہوئی ہو، ورنہ جتنی رقم بچ گئی وہ دیگر قابلِ نصاب اموال کے ساتھ ملا کر زکاۃ ادا کرنا ہوگی)  اگرچہ ان پر مستقل سال نہ گزرا ہو۔

اور اگر آپ پہلے سے صاحبِ نصاب نہیں ہیں، بلکہ ان پندرہ لاکھ روپوں کے ملکیت میں آنے کے بعد نصاب کے مالک بنیں ہیں تو  جب اس رقم پر قمری سال مکمل ہوجائے اس وقت اس کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109201372

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں