بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو القعدة 1445ھ 29 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ملازمت کی جگہ شرعی مسافت پر ہو تو نماز کا حکم


سوال

میں مردان کا رہائشی ہوں ، اسلام آباد میں سرکاری نوکری کرتا ہوں، میں کبھی 10دن، کبھی 15دن، اور کبھی 20 دن بعد گھر واپس آتا ہوں، اسلام آباد میں بھی کرایہ پہ رہائش رکھی ہے، تو کیا مجھے اسلام آباد میں نماز  قصر کرنی چاہیے ؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اپنے وطن سے سوا ستتر کلو میٹر یا اس سے زیادہ دور ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دے رہا ہو ، تو وہ اس کا وطنِ اصلی تو نہیں، البتہ اگر اس کا وہاں کمرہ ہے اور سامان ہے، نیز اس نے وہاں ایک مرتبہ 15 دن اور 15 راتیں یا اس سے زیادہ دن اقامت کی نیت سے رہا ہو تو وہ جگہ اس کے لیے وطنِ اقامت ہوجاتاہے، اس لیے وہ شخص وہاں پوری نماز پڑھے گا، اور اگر اس شخص نے وہاں ایک مرتبہ بھی 15 دن اور پندرہ راتیں اقامت کی نیت سے نہیں رہا تو وہ جگہ اس کے لیے وطنِ اقامت نہیں ہوتا، لہذا وہ وہاں مسافر والی نماز یعنی قصر پڑھے گا۔

صورتِ مسئولہ میں اگر  آپ ایک بار بھی    ملازمت والی جگہ (اسلام آباد)میں  پندرہ  دن یا اس سے زیادہ کی نیت سے رہے،تو یہ آپ کا  وطنِ اقامت بن چکا ،اب جب تک آپ کا وہاں  کرائے کا گھر   اور  سامان ہے اور جب تک وہاں (اسلام آباد  ) پرآپ کی ملازمت ہے، تب تک  آپ وہاں  پوری نماز پڑ ھیں گے۔

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله: ويبطل الوطن الأصلي بمثله لا السفر ووطن الإقامة بمثله والسفر والأصلي) لأن الشيء يبطل بما هو مثله لا بما هو دونه فلا يصلح مبطلا له وروي أن عثمان رضي الله عنه كان حاجا يصلي بعرفات أربعا فاتبعوه فاعتذر وقال إني تأهلت بمكة وقال النبي من تأهل ببلدة فهو منها والوطن الأصلي هو وطن الإنسان في بلدته أو بلدة أخرى اتخذها دارا وتوطن بها مع أهله وولده وليس من قصده الارتحال عنها بل التعيش بها وهذا الوطن يبطل بمثله لا غير وهو أن يتوطن في بلدة أخرى وينقل الأهل إليها فيخرج الأول من أن يكون وطنا أصليا حتى لو دخله مسافرا لا يتم قيدنا بكونه انتقل عن الأول بأهله لأنه لو لم ينتقل بهم ولكنه استحدث أهلا في بلدة أخرى فإن الأول لم يبطل ويتم فيهما وقيد بقوله بمثله لأنه لو باع داره ونقل عياله وخرج يريد أن يتوطن بلدة أخرى ثم بدا له أن لا يتوطن ما قصده أولا ويتوطن بلدة غيرها فمر ببلده الأول فإنه يصلي أربعا لأنه لم يتوطن غيره وفي المحيط ولو كان له أهل بالكوفة وأهل بالبصرة فمات أهله بالبصرة وبقي له دور وعقار بالبصرة قيل البصرة لا تبقى وطنًا له لأنها إنما كانت وطنًا بالأهل لا بالعقار ألا ترى أنه لو تأهل ببلدة لم يكن له فيها عقار صارت وطنًا له وقيل تبقى وطنًا له لأنها كانت وطنًا له بالأهل والدار جميعا فبزوال أحدهما لايرتفع الوطن كوطن الإقامة تبقى ببقاء الثقل وإن أقام بموضع آخر ا هـ وفي المجتبى نقل القولين فيما إذا نقل أهله ومتاعه وبقي له دور وعقار ثم قال وهذا جواب واقعة ابتلينا بها وكثير من المسلمين المتوطنين في البلاد ولهم دور وعقار في القرى البعيدة منها يصيفون بها بأهلهم ومتاعهم فلا بد من حفظها أنهما وطنان له لا يبطل أحدهما بالآخر".

(كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر 239/2 ط: دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509102250

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں