بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ذو الحجة 1445ھ 12 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

تین لاکھ قرض دے کر چار لاکھ واپس لینے کا حکم


سوال

طاہر نے زید سے زمین کی  خرید  و فروخت  کے  سلسلہ  میں تین  لاکھ  روپے  قرض  لیے،  پیسے  لیتے وقت  طاہر اور زید کے درمیان یہ طے ہوا کہ ایک سال بعد طاہر، زید کو تین لاکھ روپے  کے ساتھ  ایک لاکھ روپے اضافی ادا کرے گا، یعنی تین لاکھ کے بجائے چار لاکھ روپے ادا کرے گا، مگر پھر طاہر، زید کو اپنے وعدے کے مطابق ایک سال کی  مدت میں یہ رقم ادا نہیں کر سکا، بلکہ اُس نے اس رقم کی ادائیگی میں ایک سال اور سات ماہ کا عرصہ لگایا اور وہ بھی قسطوں میں پوری رقم ادا کی، اب سوال یہ ہے کہ کیا زید کے لیے طاہر سے ایک لاکھ روپے اضافی لینا جائز تھا یا نہیں؟ اگر نہیں تھا تو کیا زید طاہر کو وہ زائد ایک لاکھ روپیہ لوٹانے میں اس سے کچھ عرصہ کی مہلت طلب کر سکتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں زید کا طاہر سے تین لاکھ قرض رقم پر اضافی ایک لاکھ روپے لینا سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، زید پر لازم ہے کہ اُس نے طاہر سے جو ایک لاکھ روپے اضافی رقم لی ہے، اس پر سچے دل سے توبہ و استغفار بھی کرے اور وہ رقم طاہر کو واپس کردے، اگر زید کے پاس فی الحال اتنی رقم ہے تو اس پر لازم ہے کہ  وہ یہ رقم طاہر کو واپس لوٹادے اور اگر زید کے پاس فی الحال اتنی رقم نہیں ہے تو وہ طاہر سے اس رقم کی واپسی کے لیے کچھ مہلت بھی طلب کرسکتا ہے۔

مسلم شریف میں ہے:

"عن جابر، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌آكل ‌الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه وقال: هم سواء."

(کتاب المساقاۃ، باب لعن آكل الربا ومؤكله، 1219/3، ط: دارإحیاءالتراث العربي)

ترجمہ:" حضرت جابر  رضی اللہ عنہ  سے روایت  ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے ، کِھلانے والے ، سودی معاملہ لکھنے والے اور سودی معاملے کے گواہ بننے والوں پر لعنت فرمائی ہے، اور فرمایا کہ  یہ سب (گناہ میں) برابر (کے شریک) ہیں۔"

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (278) فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُؤُسُ أَمْوالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلا تُظْلَمُونَ (279)..... قال ابن جريج: قال ابن عباس: فأذنوا بحرب، أي استيقنوا بحرب من الله ورسوله، وتقدم من رواية ربيعة بن كلثوم، عن أبيه عن سعيد بن جبير عن ابن عباس، قال: يقال يوم القيامة لآكل الربا: خذ سلاحك للحرب، ثم قرأ فإن لم تفعلوا فأذنوا بحرب من الله ورسوله.

وقال علي بن أبي طلحة، عن ابن عباس فإن لم تفعلوا فأذنوا بحرب من الله ورسوله فمن كان مقيما على الربا لا ينزع عنه، كان حقا على إمام المسلمين أن يستتيبه، فإن نزع وإلا ضرب عنقه وقال ابن أبي حاتم: حدثنا علي بن الحسين، حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الأعلى، حدثنا هشام بن حسان، عن الحسن وابن سيرين، أنهما قالا: والله إن هؤلاء الصيارفة لأكلة الربا، وإنهم قد أذنوا بحرب من الله ورسوله، ولو كان على الناس إمام عادل لاستتابهم، فإن تابوا وإلا وضع فيه السلاح.

وقال قتادة: أوعدهم الله بالقتل كما يسمعون، وجعلهم بهرجا أين ما أتوا، فإياكم ومخالطة هذه البيوع من الربا، فإن الله قد أوسع الحلال وطابه، فلا يلجئنكم إلى معصيته فاقة. رواه ابن أبي حاتم، وقال الربيع بن أنس: أوعد الله آكل الربا بالقتل، رواه ابن جرير."

(سورة البقرة: 278،279، 553،554/1، ط: دار الكتب العلمية)

وفیہ ایضًا:

" ثم قال تعالى: (وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُؤُسُ أَمْوالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ) أي بأخذ الزيادة (وَلا تُظْلَمُونَ) أي بوضع رؤوس الأموال أيضا، بل لكم ما بذلتم من غير زيادة عليه ولا نقص منه."

(سورة البقرة: 279، 554/1، ط: دار الكتب العلمية)

وفیہ ایضًا:

"يأمر تعالى بالصبر على المعسر الذي لا يجد وفاء، فقال: (وَإِنْ كانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلى مَيْسَرَةٍ) لا كما كان أهل الجاهلية يقول أحدهم لمدينه إذا حل عليه الدين: إما أن تقضي وإما أن تربي."

(سورة البقرة: 280، 554/1، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144407100549

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں