بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

رمضان المبارک کی ابتدا ایک مقام پر اور عید دوسری جگہ منانے کا حکم


سوال

 ایک شخص اسلام آباد کے ایک ادارے میں ملازمت کرتا ہے اور رمضان المبارک کا پہلا روزہ رؤیت ہلال کمیٹی کے ساتھ پچیس (25) اپریل (2020) کو رکھتا ہے۔ پھر اس  کو چھٹی عید پر ملتی ہیں اور عید کے چھٹیاں وہ بچوں کے ساتھ پشاور جاتا ہے تو پشاور میں ایک دن پہلے اکثر عید ہوتی ہے، کیا وہ شخص پشاور کے لوگوں اور رشتے داروں کے ساتھ عید کرے گا یا روزہ رکھے گا؟ جس علاقے میں عید ہو وہاں عید کرنی چاہیے یا روزہ رکھنا چاہیے، رہنمائی فرمائیں۔

جواب

کسی بھی علاقے میں کوئی قاضی یا حکومت کی طرف سے مقرر کردہ کمیٹی پورے ضلع یا صوبے یا پورے ملک کے لیے ہو اور وہ شرعی شہادت موصول ہونے پر چاند نظر آنے کا اعلان کردے تو اس کے فیصلے پر اپنی حدود اور ولایت میں ان لوگوں پرجن تک فیصلہ اور اعلان یقینی اور معتبر ذریعے سے پہنچ جائے عمل کرنا واجب ہوگا، چوں کہ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی قاضی  شرعی کی حیثیت رکھتی ہے، لہذا شہادت موصول ہونے پر اگر وہ اعلان کردے تو ملک میں جن لوگوں تک یہ اعلان معتبر ذرائع سے پہنچ جائے ، ان پر روزہ رکھنا یا عید کرنا لازم ہوگا۔

نیز مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے علاوہ غیر مجاز ، پرائیویٹ کمیٹیاں رؤیت ہلال کا فیصلہ کرنے میں خود مختار نہیں ہیں، اور ان کا فیصلہ دوسرے لوگوں کے لیے قابل عمل نہیں ہے، اس لیے ان کو ولایتِ عامہ حاصل نہیں ہے، اور ان کا اعلان عام لوگوں کے لیے حجت نہیں ہے۔ لہٰذا روزہ و عیدین کے تعین کے بارے میں مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کا فیصلہ ہی معتبر ہے اور مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے فیصلہ کی پاس داری کرنا ملک کے پاشندوں پر لازم ہے، جب کہ کسی ایسی نجی کمیٹی جسے ولایتِ عامہ حاصل نہ ہو کے فیصلہ کی پاس داری کرنا پاکستانیوں پر لازم نہیں، پس رمضان کا آغاز و اختتام مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے فیصلہ کے مطابق کرنا پاکستانی لوگوں پر لازم ہے۔

صورت مسئولہ میں اسلام آباد میں رہنے والا آدمی جب پشاور  آجائے تو اگر مقامی لوگوں نے عید مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے علاوہ پرائیویٹ کمیٹی کے کہنے پر منائی ہے تو مذکورہ شخص کے لیے ان کے ساتھ عید منانا درست نہیں ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع" میں ہے:

"وقد عمل أهل المصر بذلك وخالف الرجل فقد أصاب أهل المصر وأخطأ الرجل ولا قضاء على أهل المصر لأن الشهر قد يكون ثلاثين يوما وقد يكون تسعة وعشرين يوما، لقول النبي - صلى الله عليه وسلم - «الشهر هكذا وهكذا وأشار إلى جميع أصابع يديه ثم قال: الشهر هكذا وهكذا ثلاثا وحبس إبهامه في المرة الثالثة» فثبت أن الشهر قد يكون ثلاثين وقد يكون تسعة وعشرين وقد روي عن أنس - رضي الله تعالى عنه - أنه قال: «صمنا على عهد رسول الله - صلى الله عليه وسلم تسعة وعشرين يوما أكثر مما صمنا ثلاثين يوما» ولو صام أهل بلد ثلاثين يوما وصام أهل بلد آخر تسعة وعشرين يوما فإن كان صوم أهل ذلك البلد برؤية الهلال وثبت ذلك عند قاضيهم، أو عدوا شعبان ثلاثين يوما ثم صاموا رمضان فعلى أهل البلد الآخر قضاء يوم لأنهم أفطروا يوما من رمضان لثبوت الرمضانية برؤية أهل ذلك البلد، وعدم رؤية أهل البلد لا يقدح في رؤية أولئك، إذ العدم لا يعارض الوجود، وإن كان صوم أهل ذلك البلد بغير رؤية هلال رمضان أو لم تثبت الرؤية عند قاضيهم ولا عدوا شعبان ثلاثين يوما فقد أساءوا حيث تقدموا رمضان بصوم يوم.

وليس على أهل البلد الآخر قضاؤه لما ذكرنا أن الشهر قد يكون ثلاثين وقد يكون تسعة وعشرين، هذا إذا كانت المسافة بين البلدين قريبة لا تختلف فيها المطالع، فأما إذا كانت بعيدة فلا يلزم أحد البلدين حكم الآخر لأن مطالع البلاد عند المسافة الفاحشة تختلف فيعتبر في أهل كل بلد مطالع بلدهم دون البلد الآخر."

(كتاب الصوم، فصل شرائط انواع الصوم، ج:2، ص:82، ط:دارالكتب العلمية)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144109201237

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں