بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1444ھ 11 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

میاں بیوی ایک دوسرے کا ستر دیکھ سکتے ہیں اور ایک ساتھ غسل کرسکتے ہیں؟


سوال

(۱) کیا میاں بیوی کے درمیان کسی قسم کا کوئی پردہ ہے؟

(۲)  کیا دونوں ایک دوسرے کے ستر کو دیکھ سکتے ہیں؟

(۳)اگر دیکھ سکتے ہیں تو کیا گناہ ہوگا؟

(۴) کیا زوجین ایک ساتھ غسل کر سکتے ہیں؟

جواب

(1،2،3،4)میاں بیوی کے درمیان کوئی پردہ نہیں، اس لیے دونوں ایک دوسرے کے ستر کو دیکھ سکتے ہیں، اس میں کوئی گناہ نہیں ہے، اسی طرح میاں بیوی ایک ساتھ نہا بھی سکتے ہیں اور ان کے لیے ایک دوسرے کے سارے بدن کو دیکھنا جائز ہے، شرعاً  ممانعت نہیں، البتہ شرم گاہ کی طرف دیکھنا خلافِ حیا اور خلافِ  ادب ہونے کی وجہ سے نامناسب ہے، جیساکہ ام المؤمین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتی تھی، آپ مجھ  پر سبقت فرماتے تو میں کہتی: مجھے بھی (پانی) دیجیے، مجھے بھی دیجیے۔  ایک اور روایت میں ہے:  وہ فرماتی ہیں کہ نہاتے وقت میرا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ برتن سے پانی لینے میں آگے پیچھے ہوتا تھا۔ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی فرماتی ہیں کہ نہ تو آپ ﷺ نے کبھی میرے ستر کی طرف دیکھا اور نہ ہی میں نے کبھی آپ ﷺ کے ستر کی طرف دیکھا۔

حدیث شریف میں ہے:

"مانظرت أو مارأیت فرج رسول الله صلی الله علیه وسلم قط". [سنن ابن ماجه:138، أبواب النکاح، ط:قدیمی]

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ستر کی طرف کبھی نظرنہیں اٹھائی، یایہ فرمایاکہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاسترکبھی نہیں دیکھا۔

اس حدیث کے ذیل میں صاحبِ ’’مظاہرحِق‘‘  علامہ قطب الدین دہلویؒ لکھتے ہیں:

’’ایک روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے یہ الفاظ ہیں کہ :نہ توآں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میراسترکبھی دیکھا اورنہ کبھی میں نے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کاستردیکھا۔ان روایتوں سے معلوم ہواکہ اگرچہ شوہراوربیوی ایک دوسرے کاستردیکھ سکتے ہیں، لیکن آدابِ زندگی اورشرم وحیا  کاانتہائی درجہ یہی ہے کہ شوہراوربیوی بھی آپس میں ایک دوسرے کاسترنہ دیکھیں‘‘۔

[مظاہرحق، 3/262، ط: دارالاشاعت کراچی] 

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108200745

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں