بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 محرم 1446ھ 24 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

تین طلاقیں اور تحلیل کا مسئلہ


سوال

تین طلاق اور حلالہ کا مسئلہ بیان فرمادیں اورحلالہ کس کس کے یہاں نزدیک ٹھیک ہے؟

جواب

شوہراپنی بیوی کو اگر تینوں طلاقیں دیدے خواہ ایک ہی مجلس میں تینوں طلاقیں دیدے متفرق الفاظ کے ساتھ علیحدہ علیحدہ مجلس میں تینوں طلاقیں دیدے توایسی صورت میں بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکربیوی شوہرپرحرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجاتی ہےاور رجوع  و تجدیدِ نکاح جائزنہیں ہوتا۔

 البتہ اگر  عدت گزرنے کے بعد   عورت کسی دوسرے مردکےساتھ نکاح کرےاوربوقت نکاح شوہرپرطلاق کی شرط عائدنہ کی جائے، نکاح کے بعدباقاعدہ میاں بیوی کامخصوص تعلق بھی قائم ہواس کے بعدشوہراگراپنی مرضی سے طلاق دیتاہےیا مرجاتاہےتواس کی عدت گزارکریہ عورت شوہراول کےساتھ نکاح کرسکتی ہےاس دوبارہ نکاح کےبعدشوہراول ازسر نوتینوں طلاقوں کامالک ہوگا، شوہراول جس نےاپنی بیوی کوتین طلاقیں دی ہیں کے ساتھ  دوبارہ نکاح کے لیے یہ ضروری ہے، جس کی تفصیل ماقبل میں گزری ہے۔

 مطلقہ ثلاثہ کے لیے سابق شوہر سے نکاح حلال ہونے کے لیے مذکورہ  صورت تمام أئمہ کے نزدیک درست ہے،  البتہ جس  صورت میں شوہرثانی پرطلاق کی شرط عائد کی گئی تو  یہ عمل کرنےوالے،کروانے والے پرحدیث شریف میں لعنت وارد ہوئی ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200214

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں