بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 رجب 1442ھ 27 فروری 2021 ء

دارالافتاء

 

تین ہفتے کے حمل کو ضائع کرنے کا حکم


سوال

میری بھابھی کے پٹھوں میں تکلیف ہے، اُن کی فیزیو تھراپی جاری ہے جس کے ساتھ میڈیسن بھی لی جا رہی ہیں، اب انہیں تین ہفتے کی پریگننسی بھی ہے، علاج کے دوران ایکس رے اور دوسرے ٹیسٹ کرائے جاتے ہیں جو بچے کے لیے مضر بھی ہیں اور گود میں ابھی بیس ماہ کا بیٹا بھی ہے، اس صورت میں وہ کوئی میڈیسن لے کر حمل گرا سکتی ہیں؟

جواب

 اگر حمل کو باقی رکھنے سے آپ کی بھابھی یا اِس حمل کو واقعتًا شدید نقصان اور مضرت کا اندیشہ ہو اور کوئی ماہر تجربہ کار دین دار ڈاکٹر اس کی تصدیق بھی کرے اور حمل ضائع کرنے کا مشورہ دے تو ایسی صورت میں بچے میں جان پڑجانے سے پہلے پہلے (جس کی مدت تقریباً چار ماہ ہے)    اسے ساقط کرنے کی گنجائش ہوگی، اور چار ماہ کے بعد کسی صورت میں اسقاطِ حمل جائز نہیں ہے، اور  شدید عذر نہ ہو تو پھر  حمل کو ساقط کرنا   کسی بھی وقت جائز نہیں، بلکہ بڑا گناہ ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وقالوا: يباح إسقاط الولد قبل أربعة أشهر ولو بلا إذن الزوج."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144205200451

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں