بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

دوبطن کا مناسخہ


سوال

میرے شوہر کا  انتقال ہوگیا، ورثاء میں بیوہ، والدین،دوبیٹے اورایک بیٹی تھی۔پھر میرےسسرکا انتقال ہوگیا،ورثاء میں بیوہ،تین بیٹیاں،دوپوتے اور ایک پوتی ہے، بیٹا کوئی نہیں ہے، میرے شوہر اکلوتے تھے۔مرحوم کے ترکہ میں پچاس ہزار روپےنقدی ہے، اور ایک گاڑی تھی جو تین لاکھ چالیس ہزار روپے  میں فروخت ہوئی ہے،یوں ان کے ترکہ کی کل رقم تین لاکھ نوے ہزار روپے ہے ، ترکہ کی مذکورہ رقم کس طرح تقسیم ہوگی اور ہر ایک وارث کے حصے میں کتنا آئےگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے ترکے کی تقسیم  کا شرعی طریقہ یہ  ہے کہ سب سے پہلے   مرحوم  کے حقوقِ متقدّمہ یعنی تجہیز وتکفین  کا خرچہ نکالنے کے بعد،  اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل ترکہ  سے ادا کرنے کے بعداور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے باقی ترکہ کے ایک تہائی  میں سے نافذ کرنے کے بعد  کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ2160حصے کرکےمرحوم کی بیوہ(سائلہ) کو270حصے،والدہ کو405حصے،ہرایک بیٹے کو 498حصےاور ایک بیٹی کو249حصے،مرحوم کےوالدِمرحوم(سائلہ کے سسر) کی ہرایک بیٹی کو80حصے ملیں گے۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت:2160/120/24(مرحوم شوہر )

بیوہ والدوالدہ بیٹابیٹابیٹی
34413
152020262613
270فوت شد360468468234

میت:18/72/24 ....مف:5/20( والدمرحوم)

بیوہبیٹیبیٹیبیٹیپوتاپوتاپوتی
316221
9161616663
45808080303015

یعنی390000روپے میں سے مرحوم کی بیوہ(سائلہ) کو48750روپے،والدہ کو73125روپے،ہرایک بیٹے کو89916.667روپےاور ایک بیٹی کو44958.333روپے،مرحوم کےوالدمرحوم(سائلہ کے سسر) کی ہرایک بیٹی کو14444.444روپے ملیں گے۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144306100707

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں