بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو الحجة 1445ھ 22 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

والد کا دو بیٹوں کو زندگی میں حصہ دے کر میراث میں حصہ لینے سے دست برداری کا معاہدہ کرنا


سوال

میرےوالد صاحب نے دو شادیاں کی تھی، پہلی اہلیہ سے دو بیٹے تھے، پہلی اہلیہ کے انتقال کے بعد والد صاحب نے دوسری شادی کی،  دوسری اہلیہ سے چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہوئیں، پہلی اہلیہ کے دونوں بیٹوں نے والد صاحب کو بہت ستایا اور اس کی وجہ سے والد صاحب نے اُن دونوں میں سےہر ایک  کو 50000 روپے ( 1950ء کی دہائی میں ،جو کہ اس زمانہ میں کئی کروڑوں کے برابر تھے ) یہ کہہ کردے دیے کہ اب وہ اُن کی میراث میں کسی قسم کے حصہ کا مطالبہ نہیں کریں  گے، اُنہوں نے اس پر رضامندی اختیار کرتے ہوئے وہ پیسے لے لیے، اس وقت دوسری اہلیہ کی اولاد شیر خوار تھی ، والد صاحب کے انتقال سے قبل پہلی اہلیہ  کے  ایک بیٹے کا انتقال ہو چکا تھا اور دوسری اہلیہ کا بھی انتقال ہوچکا تھا، والد صاحب کے انتقال کے بعد پہلی اہلیہ  کے دوسرے بیٹےکا بھی کچھ عرصہ بعد انتقال ہو گیا اور دوسری اہلیہ سے چار بیٹے اور دو بیٹیاں ورثاء میں ہیں ، جن میں سے ایک بیٹے کا، جو غیر شادی شدہ تھے، دو سال قبل انتقال ہو چکا ہے، اُن کے ورثاء میں تین حقیقی بھائی اور دو حقیقی بہنیں تھیں، اب  سوال یہ ہے کہ والد صاحب کی جائداد کیسے تقسیم ہوگی ؟  وراثت زیادہ سے زیادہ کتنے عرصہ میں تقسیم کر دینی چاہیے ؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً سائل کے والد نے اپنی زندگی میں اپنی  پہلی اہلیہ کے دونوں بیٹوں میں سے ہر ایک کو    50000 روپے یہ کہہ کر دیے  تھےکہ میری موت کے بعد  میراث میں کسی قسم کے حصے کا مطالبہ نہیں کروگے اور اُنہوں اس پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے، وہ پیسے لے لیے تو اب والد صاحب کی وفات کے بعد اُن کو والد صاحب کی میراث میں کوئی حصہ نہیں ملے گا۔

سائل کے والد مرحوم کی میراث اُن کے ورثاء میں تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے ترکہ سے اس کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کے اخراجات ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمہ کسی کا قرضہ ہو تو اُسے ادا کرنے کے بعد اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہوتوباقی ترکہ کے ایک تہائی میں اُسے نافذکرنے کے بعد باقی تمام جائیدادِ منقولہ وغیرِ منقولہ کو  8حصوں تقسیم کرکےمرحوم کی دوسری اہلیہ کے ہر ایک زندہ بیٹے کو 2حصے  اور ہرایک بیٹی کو ایک، ایک حصہ ملے گا۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت( سائل کے والد اور بھائی):8

بیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹی
22211

یعنی 100 روپے میں سے مرحوم کی دوسری اہلیہ کے ہرایک زندہ بیٹے کو 25روپے اور ہر ایک بیٹی کو 12.5روپے ملیں گے۔

میراث کی تقسیم میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے، جتنی جلدی ممکن ہوسکے تقسیم کردینی چاہیے۔

لسان الحکام فی معرفۃ الاحکام  میں ہے:

"وفي خزانة الأكمل قال أبو العباس الناطفي: رأيت بخط بعض مشايخنا رحمهم الله تعالى رجل جعل لأحد بنيه دارا بنصيبه على أن لا يكون له بعد موت الأب ميراث جاز وأفتى به الفقيه أبو جعفر محمد ابن اليماني أحد أصحاب محمد بن شجاع البلخي وحكى ذلك عن أصحاب احمد بن أبي الحارث وأبي عمر والطبري."

(‌‌الفصل التاسع عشر في الهبة، ص: 373، ط:‌‌ البابي الحلبي – القاهرة)

غمز عیون البصائز شرح الاشباہ والنظائر میں ہے:

"قال الجرجاني في الخزانة قال أبوالعباس ‌الناطفي: رأيت بخط بعض مشايخنا - رحمهم الله -في رجل جعل لأحد بنيه دارا بنصيبه على أن لا يكون له بعد موت الأب ميراث، جاز، وأفتى به الفقيه أبو جعفر محمد بن اليماني."

(كتاب الفرائض، 286/3، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403101537

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں