بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 رجب 1444ھ 30 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

27رجب کی تاریخ میں شب معراج کا ثبوت


سوال

کیا 27رجب المرجب کو شب معراج ثابت ہے۔

جواب

شب معراج کے متعلق دو باتیں الگ الگ ہیں،پہلی بات نفس معراج کا ثبوت ہے۔ یہ قرآن وحدیث سے ثابت  ہے،اس میں کسی  قسم كے  شک کی گنجائش نہیں  ۔دوسری بات شب معراج کی تاریخ  کی ہے ،اس کے بارے میں مؤرخین   سے مختلف اقوال منقول  ہیں۔  بعض نے  ربیع الاول, بعض نے ربیع الآخر، بعض نے رجب، بعض نے رمضان،  بعض نے شوال کے مہینے میں شبِ معراج قرار دی ہے۔

لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں 27رجب کو حتمی طور پر شب ِمعراج کہنا درست نہیں۔

المواھب اللدنیةبالمنح المحمدیہ میں ہے :

"وأما ليلة الإسراء فلم يأت فى أرجحية العمل فيها حديث صحيح ولا ضعيف. ولذلك لم يعينها النبى- صلى الله عليه وسلم- لأصحابه، ولا عينها أحد من الصحابة بإسناد صحيح."

(المقصد الخامس الاسرا والمعراج :ج2ص431 ط  التوفيقية القاهرة)

فتح الباری میں ہے :

"فإن في ذلك اختلافا كثيرا يزيد على عشرة أقوال منها ما حكاه ابن الجوزي أنه كان قبل الهجرة بثمانية أشهر وقيل بستة أشهر۔۔۔وحكى ابن حزم أنه كان في رجب سنة اثنتي عشرة من النبوة۔۔۔ و قيل باحدعشرشهراجزم به ابراهيم الحربي حيث قال كان في ربيع الآخر قبل الهجرة بسنةو قیل بسنة و خمسة اشهرقاله السدي واخرجه من طريقه الطبري والبيهقي فعلي هذا كان في شوال أو في رمضان۔۔۔ومن ربيع الأول وبه جزم الواقدي۔۔۔وعند بن سعد عن ابن أبي سبرة أنه كان في رمضان قبل الهجرة بثمانية عشر شهرا وقيل كان في رجب حكاه ابن عبد البر وجزم به النووي."

(كتاب المناقب  باب المعراج :ج9:ص257 :ط دارالكتب العلميه)

احسن الفتاویٰ میں ہے:

"27رجب کو یقینی طور پر شب معراج قرار دینا سراسر غلط ہے ،اس میں کئی قسم کے بہت سے اختلافات ہیں ،صرف تاریخ میں نہیں بلکہ مبداء میں ،سال  میں ،مہینے میں ،تاریخ میں ،دن میں  ہر ایک  میں کئی قسم کے اختلافات ہیں ۔"

(تحقيق شب معراج :ج10 /ص70/الحجازکراچی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307102240

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں