بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

ستائیس رجب کا روزہ


سوال

کیا رجب کی 27 تاریخ کو نبی کریم ﷺنے روزہ رکھا ہے ؟

جواب

رجب کے مہینہ میں تخصیص کے ساتھ کسی دن روزہ رکھنا صحیح احادیث سے یا خود نبی کریم ﷺسے ثابت نہیں ہے، لہذا 27 رجب کو تخصیص کے ساتھ روزہ رکھنے  اور  اس رات شب بیدار رہ کر مخصوص عبادت کرنے (مثلاً: صلاۃ الرغائب وغیرہ )  کا التزام درست نہیں ہے، اور اس کی جو فضیلت عوام میں مشہور ہے کہ اس روزہ کا ثواب ہزار روزے کے برابر ہے یہ درست نہیں ہے۔ اس لیے اس دن کے روزہ کو زیادہ ثواب کاباعث یا اس دن کے روزہ کے متعلق سنت ہونے کا اعتقاد صحیح نہیں ہے۔ البتہ ماہ رجب میں نبی کریم ﷺکبھی پورے ماہ ہی روزہ رکھنے کا اہتمام فرماتے تھے، اور کبھی اس ماہ کے روزوں کو ترک بھی فرمادیتے تھے ۔ اس لیے ماہ رجب اور حرمت والے دیگر مہینوں (ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم )میں علی العموم عبادات کا اہتمام کرنا چاہیے، کسی خاص دن کی تخصیص کرنا درست نہیں ۔ 

صحیح مسلم میں ہے :

"حدثنا عثمان بن حكيم الأنصاري. قال: سألت سعيد بن جبير عن صوم ‌رجب؟ ونحن يومئذ في ‌رجب. فقال: سمعت ابن عباس رضي الله عنها يقول: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم حتى نقول: لا يفطر. ويفطر حتى نقول: لا يصوم"۔

(باب صيام النبي صلى الله عليه وسلم في غير رمضان، واستحباب أن لا يخلي شهرا عن صوم، ج:2،ص:811،ط:داراحیاءالتراث العربی)

حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

”فضیلت ستائیس صوم رجب کی کسی حدیث صحیح سے منقول نہیں ،رجب وغیر رجب برابر ہیں، مگر بعض احادیث سے اشہر حرم کی کچھ فضیلت ثابت ہوتی ہے ، پس چاروں ماہ حرم برابر ہیں ،سوائے ایام معدودہ کے جن کی فضیلت ثابت ہوئی ہے “۔

(فتاویٰ رشید یہ ،ص:4512، ط:عالمی مجلس تحفظ اسلام کراچی )

فتاوی محمودیہ میں ہے :

”ماہِ رجب میں تاریخِ مذکورہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت پر بعض روایات وار دہوئی ہیں، لیکن وہ روایات محدثین کے نزدیک درجہ صحت کو نہیں پہنچیں۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ نے ”ماثبت بالسنة“  میں ذکر کیا ہے۔ بعض بہت ضیعف ہیں اور بعض موضوع (من گھڑت) ہیں“۔

(فتاوٰی محمودیہ،ج:3،ص:281،ط:ادارہ الفاروق کراچی)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144507102162

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں