بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

نماز کے دوران دامن سیدھا کرنا


سوال

نماز کے دوران کسی بھی رکن میں دامن کو سیدھا کرنا ایک ہاتھ سے یا دونوں ہاتھوں سے اس کا کیا حکم ہے؟ نیز یہ بھی بتلادیں کہ نماز کب فاسد اور کب مکروہ ہوگی؟ اور فاسد ہونے کی صورت میں اعادہ نماز واجب ہے یا پھر فقط سجدہ سہو سے ہی تلافی ہوجائے گی؟ اگر کسی فقہ کی کتاب کا حوالہ یا اصول بھی لکھ دیں تو مہربانی ہوگی۔

جواب

اگر نماز کے کسی رکن میں کپڑے کو  ضرورت کے تحت سیدھا کردیا تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوگی، البتہ نماز کے دوران کپڑوں سے کھیلنا مکروہ تحریمی ہے، اور اگر کپڑے سیدھے کرتے کرتے عملِ کثیر پایا گیا تو نماز فاسد ہوجائے، اور اس کا اعادہ واجب ہوگا سجدۂ سہو سے فساد کی تلافی نہ ہوگی۔ عمل کثیر کی وضاحت مندرجہ ذیل لنک پر ملاحظہ کریں:

عمل کثیر کی مقدار

الفتاوى الهندية  (3 / 355):
"يُكْرَهُ لِلْمُصَلِّي أَنْ يَعْبَثَ بِثَوْبِهِ أَوْ لِحْيَتِهِ أَوْ جَسَدِهِ وَأَنْ يَكُفَّ ثَوْبَهُ بِأَنْ يَرْفَعَ ثَوْبَهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ أَوْ مِنْ خَلْفِهِ إذَا أَرَادَ السُّجُودَ، كَذَا فِي مِعْرَاجِ الدِّرَايَةِ".

حاشية رد المحتار على الدر المختار  (1 / 640):
"(قوله: أي رفعه) أي سواء كان من بين يديه أو من خلفه عند الانحطاط للسجود، بحر. وحرر الخير الرملي ما يفيد أن الكراهة فيه تحريمية". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108200834

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں