بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

بائیس رکعات پڑھادی تو کیا قراءت کی مقدار لوٹائی جائے گی؟


سوال

اگر کسی نے بائیس  رکعت تراویح پڑھادی تو کیا حکم ہے، آیا اس میں پڑھا ہوا لوٹایا جائے گا یا نہیں؟

جواب

بصورتِ  مسئولہ اکیسویں اور بائیسویں رکعت چوں کہ نفل ہوگئی،  تراویح کی نہیں ہوئی؛ اس لیے ان دو رکعت میں پڑھا ہوا قرآن آئندہ روز تراویح کی نماز میں دہرا لیا جائے؛ تاکہ تراویح میں کامل قرآن کی فضیلت حاصل ہوجائے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109202570

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں