بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

ایک تولہ سونے پر زکات کا حکم


سوال

ایک تولہ سونے پر کتنی زکوٰۃ ہے؟

جواب

واضح رہے کہ سونے  کی زکوٰۃ  کا نصاب ساڑھے سات تولہ ہے۔ لہٰذا اگر ایک تولہ سونے کے ساتھ  کوئی اورقابلِ زکوٰۃ  مال(چاندی، مالِ تجارت، نقد رقم) نہ ہوتو  اس پر زکوٰۃ نہیں ہے۔  لیکن اگر سونےکے ساتھ چاندی، مالِ تجارت یا رقم ہو، خواہ وہ معمولی ہو  ، تو ایسی صورت میں  سونے کے نصاب کا اعتبار نہیں کیا جائے گا  بلکہ چاندی کے نصاب کا اعتبار کیا جائے گا،  لہٰذا  ایک تولہ سونا اور مذکورہ اشیاء میں سے کسی چیز   کی قیمت مجموعی اعتبار سے اگر ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر یا اس سے زائد ہو تو ایسی صورت میں وہ صاحب نصاب شمار ہوگا اور قمری مہینوں کے اعتبار سے نصاب پر  سال گزرنے کے بعد اس کا چالیسواں حصہ بطورِ زکوٰۃ  واجب الادا ہوگا۔

 في سنن أبي داود:

"عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله عنه - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِبَعْضِ أَوَّلِ هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: فَإِذَا كَانَتْ لَكَ مِائَتَا دِرْهَمٍ وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ وَلَيْسَ عَلَيْكَ شَىْءٌ - يَعْنِي فِي الذَّهَبِ - حَتَّى يَكُونَ لَكَ عِشْرُونَ دِينَارًا فَإِذَا كَانَ لَكَ عِشْرُونَ دِينَارًا وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ فَفِيهَا نِصْفُ دِينَارٍ فَمَا زَادَ فَبِحِسَابِ ذَلِكَ"‏.‏

(كتاب الزكاة، باب زكاة السائمة،100/2، المكتبة العصرية، بيروت)

و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:

"فأما ‌إذا ‌كان ‌له ‌الصنفان ‌جميعا فإن لم يكن كل واحد منهما نصابا بأن كان له عشرة مثاقيل ومائة درهم فإنه يضم أحدهما إلى الآخر في حق تكميل النصاب عندنا.

وعند الشافعي لا يضم أحدهما إلى الآخر بل يعتبر كمال النصاب من كل واحد منهما على حدة."

(كتاب الزكاة، فصل: مقدار الواجب في زكاة الذهب،344/2، ط: المكتبة التوفيقية، مصر)

و في الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية:

"وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز...لكن يجب أن يكون التقويمبما هو ‌أنفع ‌للفقراء قدرا ورواجا."

(كتاب الزكاة، الباب الثالث، الفصل الثاني في العروض، 179/1، ط؛ دار صادر، بيروت)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144307102115

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں