بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

صوفے پر نجاست لگ جائے تو اسے کیسے پاک کیا جائے؟


سوال

اگر صوفے پرمنی لگ جائے اور اس میں جذب ہو جائے تو اس کوپاک کرنے کاکیا طریقہ ہے، نیزاگرخشک ہوجائے توپھرکیسے پاک کریں گے، کیاترکپڑاپھیردیناکافی ہوجائے گا؟

جواب

صوفے پر منی لگ جانے اور  اس میں جذب ہوجانے کے بعد وہ تر ہو یا خشک، بہرصورت صرف تر کپڑا پھیرنے سے صوفہ پاک نہیں ہوگا, بلکہ اسے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس پر تین مرتبہ اچھی طرح پانی بہایا جائے اور ہر مرتبہ اس کو اتنی دیر تک  چھوڑ دیا جائے  کہ وہ سوکھ  جائے، یا کم از کم اس پر اتنی دیرپانی بہایا جائے  کہ اس کے پاک ہونے کا غالب گمان ہو جائے۔ اور اگر زیادہ پانی بہانا نقصان دیتاہو تو کسی بھی سیال مادے یا کیمیل سے اگر نجاست کا ازالہ یقینی طور پر ہوجائے (جیسے ڈرائی کلینر کرتے ہیں) تو بھی صوفہ پاک ہوجائے گا۔

جب تک صوفہ اس طریقے سے پاک نہ کیا جائے ناپاک ہی رہے گا،  تاہم اگر صوفے پر لگی نجاست سوکھ جائے اور اس کا اثر کپڑوں یا بدن پر نہ پہنچے تو اس پر  بیٹھنے سے کپڑے یا جسم ناپاک نہیں ہوں گے، نیز اس پر بیٹھ  کر تلاوت اور اذکار کر سکتے ہیں، خصوصاً جب کہ اس پر چادر بھی بچھا دی ہو۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 347):
"والحاصل أنه على ما صححه الحلواني: العبرة للطاهر المكتسب إن كان بحيث لو انعصر قطر تنجس وإلا لا، سواء كان النجس المبتل يقطر بالعصر أو لا. وعلى ما في البرهان العبرة للنجس المبتل إن كان بحيث لو عصر قطر تنجس الطاهر سواء كان الطاهر بهذه الحالة أو لا، وإن كان بحيث لم يقطر لم يتنجس الطاهر، وهذا هو المفهوم من كلام الزيلعي في مسائل شتى آخر الكتاب". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109202424

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں