بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 رجب 1444ھ 31 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

پندرہ شعبان کے روزے کے بارے میں حدیث کا حوالہ


سوال

پندرہ شعبان کےروزےکے بارے میں آپ  حضرات نے جو فتوی دیا ہے ،  اُس میں جو حدیث ہے،اُس کا  حوالہ چاہیے۔

جواب

پندرہ شعبان کے روزے کے متعلق ہمارے دار الافتاء سے جو فتوی جاری ہوا ہے، اُس میں "سنن ابنماجه" میں  مروی حضرت علی رضی  اللہ عنہ کی ایک  روایت بیان کی ہے،جس  کے اصل الفاظ ، اُن کا ترجمہ اور مکمل حوالہ  درج ذیل ہے:

"  حضرت  علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہرسول صلی اللہ علیہ  وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ جب نصف شعبان کی رات ہو تو  اس رات کو عبادت کرو اور دن كوروزہ رکھو، اس لیے کہ اُس راتمیں اللہ تعالی غروبِ شمس سے طلوعِ فجر تک آسمانِ دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان فرماتے  ہیں :’’ہے کوئی مغفرت کا طلب گار کہ میں اس کی مغفرت کروں!  ہے کوئی روزی کا طلب گار  کہ میں اس کو روزی دوں! ہے کوئی مصیبت زدہ کہ میں اس کو عافیت دوں  ! ہے کوئی ایسا! ہے کوئی ایسا!(یوں مختلف اعلانات فرماتے ہیں) یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔"

"سنن ابن ماجه"میں ہے:

"عن عليِّ بن أبي طالبٍ-رضي الله عنه- قال: قال رسول الله - صلّى الله عليه وسلّم -: "إذا كانتْ ليلةُ النصف من شعبانَ فقومُوا ليلَها وصومُوا نهارَها، فإنّ الله ينزِلُ فيها لغروب الشمس إلى سماء الدنيا، فيقول: أَلا من مستغفِرٍ لي فأغفِرَ له، أَلا مسترزِقٍ فأرزُقَه، أَلا مُبتلًى فأُعافيَه، أَلا كذا أَلا كذا، حتّى يطلعَ الفجرُ".

(أبواب إقامة الصلوات والسنة فيها، باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان، ج:2، ص:399، رقم:1388، ط:دار الرسالة العالمية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144308101071

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں