بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’میں آپ کو طلاق دیتاہوں یہاں سے چلی جاؤ، میں نے آپ کو طلاق دے دی‘‘ کہنے کا حکم

سوال

میں طلاق کے بارے میں پوچھنا چاہتی ہوں، میرے شوہر نے 3 اگست 2019 کو مجھے طلاق دی۔ پہلی بار اس کے الفاظ یہ تھے کہ میں آپ کو طلاق دیتا ہوں،  یہاں سے چلی جاؤ،  پھر اس نے میری گردن دبا کر مجھے مارنے کی کوشش کی،  پھر اس نے یہ کہا کہ میں نے آپ کو طلاق طلاق دے دی۔ اس وقت وہ پورے  غصہ میں تھا اور کسی کی بات نہیں سن رہا تھا۔ میں تصدیق کرنا چاہتی ہوں  کہ میں طلاق یافتہ ہوں یا نہیں؟  کیا اسلام میں کوئی نرمی ہے؟ میں اس تعلق کو ختم نہیں کرنا چاہتی، کیوں کہ میں اس سے اتنا پیار کرتا ہوں۔ اپنے والد کی غلط فہمی کی وجہ سے اس نے یہ قدم اٹھایا !

جواب

گردن  دبانے کے بعد اگر شوہرنے پھر دو مرتبہ طلاق کالفظ استعمال کیا تو مجموعی طورپر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، اب رشتہ ختم ہوچکا ہے،رجوع یا تجدیدِ نکاح کی گنجائش نہیں ہے، عدت گزار کر آپ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوں گی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200280
تاریخ10-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں