بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

12000 ہزار کا جانور 15000 ہزار میں کمیشن کے ساتھ بیچنا


سوال

اگر کسی جگہ قربانی کا حصہ 12000 روپے یا اس سے زیادہ  ہو ،اور میں اسے 15000  روپے یا اس سے اوپر کوئی   کمیشن رکھ کے بیچوں تو کیا یہ منافع حلال ہو گا؟

 

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب  سائل نے اجتماعی قربانی میں 12000 کا حصہ اپنے لیے خریدا ،تواس سے وہ حصہ   سائل کی طرف سےقربانی  کے لیے متعین  ہو گیا تھا ،لہذا سائل کا اس کو آگے بیچنا جائز نہیں ،اگر سائل نے اس کو آگے مذکورہ پیسوں (15000 )میں فروخت کیا تو اس میں جو نفع ہو گا (3000) ہزار روپے اس کو صدقہ کرنا لازم ہو گا ،اور اگر سائل نے کسی  شخص سے یہ بات طے کر لی کہ میں آپ کی قربانی کرادوں گا ،لیکن اس پر اضافی رقم اپنی محنت کی لوں گا ،تو ایسی صورت میں باہمی رضامندی سے طے شدہ اجرت لینا جائز ہو گا ۔

بدائع الصنائع میں :

"أن المشتراة للأضحية ‌متعينة ‌للقربة إلى أن يقام غيرها مقامها فلا يحل الانتفاع بها ما دامت متعينة ولهذا لا يحل له لحمها إذا ذبحها قبل وقتها....ويكره له بيعها لما قلنا، ولو باع جاز في قول أبي حنيفة ومحمد - عليهما الرحمة - لأنه بيع مال مملوك منتفع به مقدور التسليم وغير ذلك من الشرائط فيجوز، وعند أبي يوسف - رحمه الله - لا يجوز؛ لما روي عنه أنه بمنزلة الوقف ولا يجوز بيع الوقف ثم إذا جاز بيعها على أصلهما فعليه مكانها مثلها أو أرفع منها فيضحي بها فإن فعل ذلك فليس عليه شيء آخر، وإن اشترى دونها فعليه أن يتصدق بفضل ما بين القيمتين ولا ينظر إلى الثمن وإنما ينظر إلى القيمة حتى لو باع الأولى بأقل من قيمتها واشترى الثانية بأكثر من قيمتها وثمن الثانية أكثر من ثمن الأولى يجب عليه أن يتصدق بفضل قيمة الأولى، فإن ولدت الأضحية ولدا يذبح ولدها مع الأم كذا ذكر في الأصل."

(كتاب الأضحية ،ج:5 ،ص:78 ،ط:رشيدية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144412100173

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں