بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 جُمادى الأولى 1444ھ 01 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

بارہ ربیع الاول کو روزہ رکھنا


سوال

بارہ ربیع الاول کو روزہ رکھنے کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

بارہ ربیع الاول کا روزہ  بھی عام دنوں کے نفلی روزے  کی طرح ہے، اس دن کے روزے  کی الگ سے کوئی فضیلت اَحادیثِ مبارکہ میں وارد نہیں ہوئی ہے، لہٰذا بارہ ربیع الاول کے روزے کی الگ سے کوئی خاص فضیلت سمجھنا یا اس کو الگ درجہ دے کر لازمی سمجھ کر رکھنا یا اس دن کی مخصوص سنت سمجھ کر روزہ رکھنا درست نہیں ہے، باقی جیسے عام دنوں میں روزہ رکھا جاتا ہے ایسے ہی اگر کوئی  خاص فضیلت سمجھے بغیر بارہ ربیع الاول کو بھی نفلی روزہ رکھ لے تو شرعًا کوئی حرج نہیں، اور اگر پیر یا جمعرات کے دن بارہ ربیع الاول آجائے اور کوئی اس وجہ  (پیر یا جمعرات کی وجہ) سے روزہ رکھنا چاہے تو اس دن روزہ عام تاریخوں کی طرح مستحب ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144203200730

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں