بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

12 ذو الحجہ کو لاعلمی میں زوال سے پہلے رمی کرنا


سوال

ہم نے 12 ذی الحجہ کی رمی ، زوال کے وقت سے لاعلمی کی وجہ سے زوال سے کچھ دیر پہلے کرلی،  کیا اس صورت میں دم لازم آئے گا؟

جواب

اگر 12 ذو الحجہ کو لاعلمی میں زوال سے کچھ دیر پہلے رمی کی اور زوال کے بعد اگلے دن کی صبح تک اعادہ نہیں کیا تو دم لازم ہوگیا ہے۔ اگر ایسی غلطی ہوجائے تو زوال کے بعد اگلے دن کی صبح صادق سے دوبارہ رمی کرلینی چاہیے؛ تاکہ دم ساقط ہوجائے۔

الفتاوى الهندية - (6 / 70):
"وأما وقت الرمي في اليوم الثاني والثالث فهو ما بعد الزوال إلى طلوع الشمس من الغد حتى لا يجوز الرمي فيهما قبل الزوال إلا أن ما بعد الزوال إلى غروب الشمس وقت مسنون وما بعد الغروب إلى طلوع الفجر وقت مكروه هكذا روي في ظاهر الرواية".  
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201130

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے